نوٹوں پر پابندی کی کس کس کو خبر تھی؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption نشانہ کالا دھن تھا اس لیے وزیر اعظم کے مطابق رازداری ضروری تھی لیکن کرنسی کی قلت سے اب جو مسائل پیاد ہو رہے ہیں ان کی وجہ سے حکومت کو سخت تنقید کا سامنا ہے

انڈیا میں ایک ہزار اور پانچ سو کے نوٹ اچانک بند کیے جانے کے ایک مہینے بعد اب آہستہ آہستہ یہ تفصیلات سامنے آنا شروع ہوئی ہیں کہ نوٹ پر پابندی کے فیصلے کے بارے میں کس کس کو خبر تھی اور اسے پوشیدہ کیسے رکھا گیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کا دعوی ہے کہ اس نے اس محدود گروپ سے وابستہ لوگوں سے بات کی ہے جنھیں اس پالیسی کو عملی شکل دینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے 8 نومبر کو جب یہ اعلان کیا کہ صرف چار گھنٹے بعد ہی بڑے نوٹ چلنا بند ہو جائیں گے تو پورا ملک حیرت زدہ رہ گیا۔ یہ قیاس آرائی بھی ہورہی تھی کہ خود وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو بھی اس کا علم نہیں تھا حالانکہ ایک سینیئر وزیرنے اس تاثر کو مسترد کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکمت عملی وضع کرنے میں ریونیو سیکریٹری ہنسمکھ آدھیا نے کلیدی کردار ادا کیا جو نریندر مودی کے بہت قریب مانے جاتے ہیں۔ ہنسمکھ آدھیا کے ساتھ مبینہ طور پر پانچ لوگ اور تھے اور ان کی رہنمائی میں نوجوان رسرچرز کی ایک ٹیم کام کر رہی تھی۔ اس کام کے لیے وزیراعظم کی رہائش گاہ میں ایک الگ دفتر قائم کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عام تاثر یہ ہے کہ اس پالیسی پر وزیر اعظم کا سیاسی مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے

نشانہ کالا دھن تھا اس لیے وزیر اعظم کے مطابق رازداری ضروری تھی لیکن کرنسی کی قلت سے اب جو مسائل پیاد ہو رہے ہیں ان کی وجہ سے حکومت کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔

مشہور ماہر اقتصادیات بھارت جھنجھنوالا کو خطرہ ہے کہ معیشت کساد بازاری کا شکار ہوسکتی ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 'میں نوٹ بندی کے فیصلے کے خلاف ہوں، سرکار کالا دھن ختم کرنا چاہتی تھی لیکن اسے کوئی کامیابی نہیں ملی ہے۔'

ہنسمکھ آدھیا نے بھی مانا ہے کہ جتنی بھی کرنسی ختم کی گئی تھی، اب امکان ہے کہ وہ ساری بینکنگ کے نظام میں لوٹ آئے گئی۔ ساڑھے گیارہ لاکھ کروڑ روپے پہلے ہی بنکوں میں جمع کرائے جاچکے ہیں اور اب صرف تقریباً چار لاکھ کروڑ روپے باقی بچتے ہیں۔

عام تاثر یہ ہے کہ اس پالیسی پر وزیر اعظم کا سیاسی مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ شمالی ریاست اتر پردیش میں اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں جہاں اس بات کا واضح عندیہ ملے گا کہ دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگ نوٹ بندی کے فیصلے کو کس حد تک ہضم کر پائے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیصلے کا اعلان کرنے سے ذرا پہلے وزیر اعظم مودی نے کابینہ کی میٹنگ میں کہا کہ میں نے پوری رسرچ کر لی ہے، اگر یہ پالیسی ناکام ہوئی تو ذمہ داری میری ہوگی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک ماہ ہونے کے باوجود بینکوں کے باہر لوگوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور نوٹوں کی کمی محسوس کی جا رہی ہے

اعلان کے فوراً بعد آدھیا نے ٹوئیٹ کیا تھا کہ 'کالے دھن کے خلاف یہ حکومت کا سب سے بڑا اور سب سے جرائت مندانہ فیصلہ ہے۔'

اس غیرمعمولی پراجیکٹ کی تیاری کے دوران حکومت نے الگ الگ محکموں اور ماہرین سےاس بارے میں رپورٹیں مانگی تھیں کہ نئے نوٹ کتنی جلدی چھاپے جاسکتے ہیں، اگر بھاری رقومات جمع ہوں گی تو کیا بینکوں کو فائدہ ہوگا اور نوٹ پر پابندی سے کسے فائدہ ہوگا؟

لیکن رپورٹ کے مطابق یہ مجموعی تصویر کے الگ الگ حصے تھے اور اس بات کا خیال رکھا گیا کہ کوئی انھیں جوڑ کر یہ اندازہ نہ لگا سکے کہ کیا ہونے والا ہے۔

لیکن بہت سے ماہرین کے مطابق رازداری کی کوشش میں تیاری بھی ادھوری رہی۔ نئے نوٹوں کی سپلائی ایک مہینے بعد تک نارمل نہیں ہوسکی ہے اور ماہرین کے مطابق اس میں ابھی کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔ دو ہزار کے نئے نوٹوں کا سائز اور وزن پرانے نوٹوں سے الگ ہونے کی وجہ سے انہیں اے ٹی ایم مشینوں کے ذریعہ فوری طور پر دستیاب نہیں کرایا جاسکا۔ یہ کام بھی اب تک جاری ہے۔

معیشت پر اس فیصلے کے اثرات نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ریزرو بینک کے مطابق کاروبار میں مندی عارضی ہے لیکن اس نے رواں مالی سال کے لیے شرح نمو سات اعشاریہ چھ فیصد سے گھٹاکر سات اعشاریہ ایک فیصد کردی ہے۔

وزیر اعظم نے کرنسی کی قلت سے پریشان لوگوں سے پچاس دن کا وقت مانگا تھا، یہ مہلت تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں