ہیلی کاپٹر سکینڈل: انڈین فضائیہ کے سابق سربراہ گرفتار

ہیلی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اے ڈبليو 101 ماڈل ہیلی کاپٹروں کا شمار جدید ترین ہیلی کاپٹروں میں ہوتا ہے

انڈیا میں پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے اینگلو اٹالین کمپنی آگستا ویسٹ لینڈ کے ساتھ ہیلی کاپیٹروں کی خریداری کے معاملے میں مالی بدعنوانی کے الزامات کے بعد انڈین فضائیہ کے سابق سربراہ ایس پی تیاگی کو گرفتار کر لیا ہے۔

بھارت: ہیلی کاپٹر خرید کا معاملہ کیا ہے؟

'آگس

جب راہبر ہی راہزن ٹھہرے!

سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن (سی بی آئی) کا کہنا ہے ایس پی تیاگی نے کمپنی کو 'ناجائز فوائد' دیے تھے اور دیگر افراد کو رشوت دینے کی راہ ہموار کی تھی۔

انڈین حکام کی جانب سے مارچ 2013 میں آگستا ویسٹ لینڈ اور ان کی مالک کمپنی فن میکانیکا کے خلاف مجرمانہ مقدمہ دائر کیا تھا۔

ایس پی تیاگی نے اس سے قبل اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کی تھی۔

سی بی آئی کا کہنا ہے کہ ان کے کزنز جولی تیاگی اور ڈوکسا تیاگی کو بھی رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

یہ سکینڈل سنہ 2013 میں اس وقت منظرعام پر آیا تھا فن میکانیکا کے سربراہ گیوسیپ اورسی کو بدعنوانی کے الزام میں اطالوی شہر میلان میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اطالوی حکام کا کہنا تھا کہ وہ کئی ماہ سے رشوت اور مالی غبن کی تفتیش کرتے رہے ہیں۔ گیوسیپ اورسی نے کسی قسم کے غیرقانونی کام میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن (سی بی آئی) کا کہنا ہے ایس پی تیاگی نے کمپنی کو 'ناجائز فوائد' دیے تھے

اطالوی تفتیش کاروں کی جانب سے ایک اطالوی عدالت میں جمع کروائی گئی ابتدائی تفتیشی رپوٹ میں ایس پی تیاگی کا نام بھی شامل کیا ہے۔

خیال رہے کہ انڈیا کی وزارت دفاع نے سنہ 2014 میں 75 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے عوض 12 ہیلی کاپٹروں کے معاہدے کو منسوخ کر دیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ وہ اس حوالے سے خود تفتیش کریں گے۔

اے ڈبليو 101 ماڈل کے ان 12 ہیلی کاپٹروں کی خریداری کا معاہدہ انتہائی خاص افراد یعنی صدر، وزیر اعظم اور سینیئر سیاست دانوں کے سفر کے غرض سے کیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں