پیسے دینے کے لیے لال بٹن دبانا ہے یا ہرا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا کی شمال مشرقی ریاست منی پور کی ایک اے ٹی ایم مشین کے باہر لوگ پیسے نکالنے کے منتظر ہیں

بڑے کرنسی نوٹ کیا غائب ہوئے، بازاروں کی رونقیں ہی لٹ گئیں لیکن کچھ محفلیں اب بھی آباد ہیں۔

اب ان ٹھکانوں پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔ دلی میں ایک وکیل کے گھر سے ساڑھے 13 کروڑ روپے برآمد ہوئے ہیں، بتایا جاتا ہے کہ اس میں ڈھائی کروڑ سے زیادہ نئی کرنسی میں تھے۔

وکیل صاحب قانون کی پاسداری میں یقین رکھتے ہیں اس لیے اکتوبر میں جب انکم ٹیکس کے اہلکاروں نے ان کے بنگلے پر چھاپہ مارا تو انھوں نے تقریباً سوا سو کروڑ روپے کے اثاثے ظاہر کیے تھے۔ اب کوئی دروازے پر آیا ہو تو اسے خالی ہاتھ تو نہیں بھیج سکتے، ورنہ اتنا پیسہ ہونے کا فائدہ ہی کیا ہے۔ دو ہفتے قبل بھی ان کے بینک کھاتوں اور لاکروں سے 19 کروڑ روپے ملے تھے۔

لگتا ہے کہ وکیل صاحب کو خطروں سے کھیلنے کا شوق ہے۔ نئی رقم بھی اسی گھر سے برآمد ہوئی ہے جہاں پہلے چھاپہ مارا گیا تھا! انھیں دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے یا کلہاڑی مارنے میں صرف دو مہینے لگے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا میں بڑے کرنسی نوٹوں پر حکومتی کی جانب سے لگائی جانے والی پابندی پر احتجاج اب بھی جاری ہے

ادھر وزیراعظم نریندر مودی کو بھی اب شاید یہ احساس ہونے لگا ہے کہ ملک میں حالات معمول پر لانے میں ابھی وقت لگے گا۔ بڑے کرنسی نوٹ بند کیے جانے کے بعد جب لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہوا تو انھوں نے گوا میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'میں نے دیش سے صرف 50 دن مانگے ہیں، اگر 30 دسمبر کے بعد میری کمی رہ جائے، کوئی میری غلطی نکل جائے۔۔۔تو آپ مجھے جس چوراہے پر کھڑا کرکے جو سزا دینگے، میں بھگتنے کو تیار ہوں۔'

لیکن اب شاید انھیں بھی احساس ہونے لگا ہے کہ حالات کے معمول پر لوٹنے میں وقت لگے گا۔ اب ان کا کہنا کہ حالات بہتر ہوں گے '۔۔۔ لیکن میں نے حساب لگایا ہے کہ 30 دسمبر کے بعد ہم دھیرے دھیرے کر کے پہلے جیسے حالات کی طرف آگے بڑھیں گے۔'

نئے نوٹ دھیرے دھیرے لوگوں کی زندگی میں آئیں گے، یہ احساس تو اب سب کو ہوگیا ہے، ہو سکتا ہے کہ جب تک نئے نوٹوں کی سپلائی پوری طرح نارمل ہو، ملک پوری طرح کیش لیس ہو چکا ہو۔ فی الحال، اے ٹی ایم مشینوں کے باہر لائنیں لگی ہوئی ہیں لیکن پیسے نہیں ہیں، پھر اے ٹی ایم مشینیں نوٹوں سے بھری ہوں گی اور لوگ کہیں گے کہ بھائی نئے نوٹ چھاپنے پر اتنا پیسہ برباد کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ کارڈ اور ڈیجیٹل والیٹ کا زمانہ ہے، کاغذ کے نوٹ آجکل کون استعمال کرتا ہے؟ کس زمانے میں رہتے ہیں ہمارے حکمراں!

بس جمہوریت کا یہ ہی مسئلہ ہے، حکومتیں عوام کو خوش کرنے کے لیے کیا کچھ نہیں کرتیں لیکن عوام ہیں کہ ایک بدمزاج ساس کی طرح غصہ ناک پر لے کر ہی گھومتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بہت سے پھل اور سبزی فروش بھی 'ڈیجیٹل والیٹ' سے پیسے لے رہے ہیں

بہرحال، حکومت اس وقت لوگوں کو کیش لیس خریداری کی طرف مائل کرنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہی ہے، ٹی وی ریڈیو پر ہر وقت بس یہ اشتہار ہی سنائی دیتے ہیں کہ آپکا فون ہی آپکا بینک بھی ہے اور بٹوا بھی۔

'رکشے میں جانے کے لیے، یا دفتر سے آنے کے لیے، کپڑے خریدنے کے لیے یا فصل بیچنے کے لیے، بجلی کے بل کے لیے یا بھنڈی، پنیر کے لیے ۔۔۔کوئی بھی بھگتان بغیر نقد کے کرنا بالکل ممکن ہے۔۔۔ بس سمارٹ فون میں یا تو یو پی آئی ایپ (اپلیکشین) ڈاؤن لوڈ کرو یا رکھ لو ای والیٹ۔۔۔ اور کچھ نہیں تو ڈیبٹ کارڈ جیب میں رکھ لو یار۔۔۔'

اور بس ریڈیو پر یہ پیغام سنتے ہی گاؤں دیہات میں لوگ شاید یہ کہتے ہوں گے کہ ارے یہ تو بہت آسان ہے، ہمیں پہلے کبھی کسی نے کیوں نہیں بتایا، پیسے دینے کے لیے لال بٹن دبانا ہے یا ہرا؟

بڑے شہروں میں لوگ تیزی سے ڈیجیٹل پیمنٹ کی راہ اختیار کر رہے ہیں، بہت سے پھل اور سبزی فروش بھی 'ڈیجیٹل والیٹ' سے پیسے لے رہے ہیں لیکن انڈیا کے دیہی علاقوں میں زیادہ تر لوگ فی الحال کرارے نوٹ اپنے ہاتھ میں دیکھنا چاہتے ہیں، فون میں نہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں