انڈیا میں انکم ٹیکس کے چھاپوں میں کروڑوں کی نئی کرنسی ضبط

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ ایک ہفتے کے دوران کئی مقامات پر کروڑوں روپے کا کیش برآمد کیا گیا ہے

انڈیا میں پانچ سو اور ہزار کے پرانے نوٹوں کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو ایک ماہ سے زیادہ ہو چکا ہے لیکن ایک طرف جہاں بینکوں میں اب بھی نقد رقم کے لیے لوگوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں وہیں ملک کے کئی حصوں میں بڑے پیمانے پر نئی کرنسی میں رقوم ضبط کی گئی ہے۔

گذشتہ ایک ہفتے کے دوران کئی مقامات پر کروڑوں روپے کا کیش برآمد کیا گیا ہے۔ ان کارروائیوں میں بڑے تاجروں اور بینکوں پر بھی چھاپے مارے گئے ہیں۔ تازہ کارروائی جے پور میں کی گئی ہے۔

* اب شادی کر لیں

* بھارت میں نوٹوں کی تبدیلی کا فائدہ کس کو

آسام پولیس نے پیر کو گوہاٹی میں ایک کاروباری شخصیت کے گھر پر چھاپہ مار کر 1.55 کروڑ روپے کی نقد رقم ضبط کی جو نئے 2000 اور 500 کے نوٹوں میں ہے۔

جے پور میں پیر یعنی 12 دسمبر کو ہی پولیس نے 93.52 لاکھ روپے نئی کرنسی میں ضبط کیے۔ یہ پیسے سات لوگوں کے پاس سے 2000 کے نوٹوں میں ملے ہیں۔

بنگلور میں انکم ٹیکس کے اہلکاروں نے یکم دسمبر کو 4.7 کروڑ روپے دو افراد سے برآمد کیے۔ اس واقعے میں 2000 کے علاوہ 500 اور 100 روپے کے بھی نوٹ برآمد ہوئے اور سونے کے بسکٹ بھی۔

چنئی میں انکم ٹیکس محکمہ نے آٹھ مقامات پر چھاپے مار کر 90 کروڑ روپے اور 100 کلو سونا برآمد کیا۔ آٹھ دسمبر کو کی گئی اس کارروائی میں برآمد شدہ 90 کروڑ میں سے کچھ نوٹ نئی کرنسی میں تھے اور باقی پرانی کرنسی کے نوٹ تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انکم ٹیکس حکام نئے 'کرنسی' کے نوٹوں سے متعلق تحقیقات کی جا رہی ہیں

ویلور شہر میں نو دسمبر ایک وین گھومتی ہوئی پائی گئی جس میں خاصا کیش تھا۔ جب پولیس نے وین کو روک کر تلاشی لی تو اس میں سے 24 کروڑ کیش نکلا۔ یہ پیسہ مبینہ طور پر کسی صنعتکار کا تھا۔

دارالحکومت دہلی کے چاندنی چوک واقع ایک بینک پر انکم ٹیکس حکام نے چھاپہ مارا جس کے دوران معلوم ہوا کہ 44 جعلی اكاؤنٹس میں 100 کروڑ روپے جمع کیا گیا تھا۔

جنوبی دہلی میں گیارہ دسمبر کو مارے گئے چھاپے میں ایک لا فرم کے دفتر سے 13 کروڑ روپے برآمد کیے گئے جس کا ایک حصہ نئی کرنسی میں تھا۔

انکم ٹیکس حکام کا کہنا ہے کہ اب تک ملک کے مختلف مقامات سے برآمد کیے گئے نئے 'کرنسی' کے نوٹوں سے متعلق تحقیقات کی جا رہی ہیں جس کے بعد اس کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔

اسی بارے میں