جنسی ہراس: دوستم اور ایشچی کے درمیان پرانی لڑائی کا نیا موڑ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنرل دوستم پر پہلے بھی جسمانی تشدد کے الزامات لگتے رہے ہیں

افغانستان کے نائب صدر عبدالرشید دوستم پر شمالی صوبے جوزجان کے سابق گورنر کی طرف سے انھیں جنسی طور پر ہراساں کرنے اور جسمانی تشدد کی خبر افغانستان اور بین الاقوامی اخبارات کی شہ سرخیاں میں رہی ہے۔

سابق گورنر احمد ایشچی نے جو نیشنل اسلامی موومنٹ آف افغانستان کے سابق رکن بھی ہیں افغان نائب صدر پر الزام لگایا کہ وہ گزشتہ ماہ بزکشی کے ایک میچ کے بعد انھیں اپنے ساتھ لے گئے اور پھر ان کی گردن پر پاؤں رکھ کر کہا کہ 'کسے پرواہ ہو گی اگر میں تمھیں یہاں اسی وقت مار دوں؟'

63 سالہ سابق گورنر نے یہ بھی الزام لگیا کہ انھیں بعد میں کئی روز دوستم کے حامیوں نے قید میں رکھا۔ دوستم کے آفس نے اس سے انکار کیا ہے لیکن افغان صدارتی ترجمان کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں اس واقعے کی تحقیقات کے متعلق کہا گیا ہے۔

کابل میں امریکی سفارتخانے کی طرف سے جاری کیے ایک بیان میں ان الزامات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مضبوط، آزاد نظامِ عدل ایک مستحکم معاشرے کی بنیاد ہے۔ افغان مطالبہ کرتے ہیں کہ انسانی حقوق کی عزت کی جائے اور ملک کے قانون کی پاسداری ہو۔'

ذمہ دار کون؟

آزاد افغان اخبار ھشت صبح نے لکھا ہے کہ احمد ایشچی کے نائب صدر جنرل دوستم پر الزامات کوئی عام معاملہ نہیں ہے۔ ایک عام شہری نے، جس کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں جنرل دوستم پر یہ الزام لگایا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ آدمی (ایشچی) جنرل دوستم کے خلاف شکایت درج کرائے۔ اب ملک کے انصاف کے ادارے کو حرکت میں آنا چاہیے اور معاملے کو پرکھنا چاہیے۔ اور ایک مجاز عدالت کو اس بات کا تعین کرنا چاہیے کہ کون ذمہ دار ہے اور کون نہیں۔ افغان شہری انصاف کے ادارے کی کارروائی کا انتظار کر رہے ہیں۔ اگر انصاف کا ادارہ کارروائی کرنے میں ناکام رہا تو یہ سمجھا جائے گا کہ افغانستان میں جنگل کا قانون ہے۔'

ایک اور افغان اخبار سرنوشت نے اپنی شہ سرخی 'دوستم کے جرائم اور امریکی حمایت' کے زیرِ عنوان مضمون میں لکھا ہے کہ دوستم ماضی میں بھی جرائم اور جنسی ہراس میں ملوث رہے ہیں لیکن ترکی، ازبکستان اور امریکہ ان کی حمایت کرتا رہا ہے۔

امریکی اخبار لاس انجلیز ٹائمز کے مطابق ایشچی اور دوستم کے درمیان تین دہائیاں پرانی دشمنی ہے جب افغانستان میں سابق سویت یونین کی حمایت یافتہ حکومت تھی۔ دوستم ایشچی کو پیچھے چھوڑ کر علاقائی پارلیمانی فورس کے سربراہ بنے تھے لیکن ایشچی نے جنرل کا نائب بننے سے انکار کر دیا تھا اور اس طرح شمالی افغانستان میں جو کہ ان کا گڑھ تھا ایک ایسی جگہ باقی رہ گئی تھی جہاں دوستم کا کنٹرول نہیں تھا۔

دوسری طرف پارلیمانی کارروائی جو طلوع نیوز ٹی وی چینل پر نشر کی گئی ایک ممبر پارلیمان احمد تیانی نے جو جنرل دوستم کی قیادت والی اسلامی موومنٹ آف افغانستان کے ترجمان بھی ہیں، ایشچی کے الزامات کو ایک منصوبہ کہہ کر رد کر دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ ایک شخص کے یک طرفہ الزامات ہیں۔ یہ صرف دعوے ہیں جن میں جھوٹ اور الزامات شامل ہیں۔ انھوں نے ممبر پارلیمان سے مطالبہ کیا کہ وہ ان دعوؤں پر کوئی فوری ردِ فیصلہ نہ ظاہر کریں۔

واضح رہے جنرل عبدالرشید دوستم اور احمد ایشچی دونوں ہی ازبک قوم سے تعلق رکھتے ہیں اور کئی مبصرین اسے افغانستان میں ازبک گروہوں کے درمیان آپس کی لڑائی بھی تصور کرتے ہیں۔

اسی بارے میں