انڈیا: بنارس کی کسما وتی جو بغیر ریت کھائے نہیں رہ سکتیں

کسما وتی تصویر کے کاپی رائٹ ROSHAN JAISWAL
Image caption کسما وتی جب 15 برس کی تھیں تو ایک بار ان کے پیٹ میں درد ہوا تھا اور ایک طبیب نے انہیں گائے کے دودھ میں ریت ملا کر پینے کو کہا

انڈین ریاست اترپردیش کے ضلع بنارس کی کسما وتی تقریباً ہر روز ایک کلو ریت کھاتی ہیں لیکن صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

مقامی صحافی روشن جیسوال نے اس سلسلے میں کسما وتی اور ان کے اہل خانہ سے بات کی۔

کسما وتی جب 15 برس کی تھیں تو ایک بار ان کے پیٹ میں درد ہوا تھا اور ایک طبیب نے انھیں گائے کے دودھ میں ریت ملا کر پینے کو کہا۔

كسما وتی کی پیٹ کی پریشانی تو ٹھیک ہو گئی لیکن ریت میں نہ جانے کیسا ذائقہ تھا کہ انھیں اس کی عادت پڑ گئی۔

بنارس کے چولاپور بلاک کے کٹاری گاؤں کی رہنے والی كسماوتی آج 78 برس کی ہیں اور گذشتہ 63 برس سے ان کی یہ عادت جاری ہے۔

كسماوتی کی شادی ہوئی، پھر دو بیٹے اور ایک بیٹی ہوئی لیکن ہر دن ریت کھانے کا ان کا سلسلہ جاری رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ROSHAN JAISWAL
Image caption كسماوتي مکمل طور صحت مند ہیں۔ ان کی آنکھوں پر چشمہ ہے نہ ہی ان کی کمر جھکی ہے۔ وہ ہر روز کھیت جاتی ہیں اور کھیتی باڑی کا کام بھی کرتی ہیں

اب ان کے پوتے پوتیاں بھی ہو چکی ہیں اور ان بچوں کی ذمہ داری اپنی دادی کے لیے ریت جمع کرنا ہے۔ کئی بار تو پڑوسی بھی انھیں ریت بطور عطیہ دے دیتے ہیں۔

كسما وتی مکمل طور صحت مند ہیں۔ بہ تو وہ عینک پہنتی ہیں نہ ہی ان کی کمر جھکی ہے اور وہ روزانہ کھیتی باڑی بھی کرتی ہیں۔

كسما وتی کا کہنا ہے کہ دن بھر میں وہ ڈھائی سو گرام سے ایک کلو تک ریت کھا لیتی ہیں۔

کھانے سے پہلے وہ ریت کو باقاعدہ دھوتی ہیں، دھوپ میں سُكھاتی ہیں اور کنکر پتھر بھی اس میں چنتی ہیں۔

سونے سے پہلے اور اٹھنے کے بعد اور نیند ٹوٹنے پر بھی انھیں کھانے کے لیے ریت چاہیے اور جس دن طلب کچھ زیادہ ہو جائے تو پورا دن ہی ریت پھانکنے میں گزر جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ROSHAN JAISWAL
Image caption كسماوتي کا کہنا ہے کہ دن بھر میں وہ ڈھائی سو گرام سے ایک کلو تک ریت کھا لیتی ہیں

انھوں نے ہمیں ایک قصہ بھی سنایا۔ ان کا کہنا تھا: 'ایک بار پڑوس میں مکان بنانے کے لیے ریت آئی۔ مجھے آج تک ایسی میٹھی ریت پوری زندگی میں کھانے کو نہیں ملی۔ کچھ ہی دن میں میں نے دو تین بوریاں اس ریت کی کھا لیں۔ کسی کو پتہ نہیں چلا کیونکہ اس کے بدلے میں اپنے گھر میں رکھی ریت میں وہاں رکھ آتی تھی۔'

كسما وتي کے پوتے سندرم نے بتایا: 'میں تو بچپن سے ہی دیکھ رہا ہوں کہ میری دادی ریت کھاتی ہیں اور وہ پوری طرح سے ٹھیک ہیں۔ صرف گذشتہ برس وہ ایک بار بیمار پڑی تھیں۔'

کاشی ہندو یونیورسٹی کے نفسیاتی شعبہ طب کے صدر پروفیسر سنجے گپتا کا کہنا ہے کہ یہ 'پاكا' نام کی بیماری کی ہی ایک شکل ہے جس میں نہ کھائی جانے والی چیزیں بھی انسان کھانے لگتا ہے۔ وہ بیمار نہیں ہوتیں تو شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ریت ان کے جسم میں کسی کمی کو پورا کرتی ہے۔'

انھوں نے تسلیم کیا کہ میڈیکل سائنس میں بہت ساری غیر سلجھی پہیلیاں اب بھی ہیں جن میں سے ایک كسماوتی کا کیس بھی ہے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ طبی نکتہ سے ریت کھانے سے جسم کو نقصان ہونے کا خدشہ رہتا ہے اس لیے کسی کو بھی كسما وتی کی نقل نہیں کرنی چاہیے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں