کابل میں رکنِ پارلیمان کے گھر پر حملہ، پانچ افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اطلاعات کے مطابق میر ولی اس حملے میں بچ گئے ہیں

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مسلح حملہ آوروں نے پارلیمنٹ کے ایک رکن میر ولی کے گھر پر حملہ کیا جس میں 5 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق میر ولی اس حملے میں بچ گئے ہیں تاہم مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ اب تک اس حملے میں دو بچوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور حملہ ابھی بھی جاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے دونوں بچے میر ولی کے خاندان سے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوع پر اس وقت سکیورٹی فورسز موجود ہیں اور حملہ آوروں نے لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ میر ولی کے خاندان کے کچھ افراد نے ایک ہمسائے کے مکان کے ذریعے قرار ہونے کی کوشش کی تھی جنھیں ترغمال بنا لیا گیا ہے۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں کندھار سے رکنِ پارلیمان عبید اللہ برکزئی کے 25 سالہ بیٹے سمیت دو سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔

میر ولی جنوبی صوبے ہلمند سے منتخب رکن ہیں۔ افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے اس حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

2014 میں بین الاقوامی اتحادی فوجوں کے انخلا کے بعد سے طالبان ہلمند صوبے کا بہت سا علاقہ اپنے کنٹرول میں لے آئے ہیں۔ ہلمند صوبہ منشیات کی پیداوار کے حوالے سے اہم ہے۔

اسی بارے میں