انڈیا: پیسے نہ ہونے پر شوہر کی لاش کو ٹرین ہی میں چھوڑ کر جانا پڑا

سروجنی تصویر کے کاپی رائٹ SANDEEP SAHU
Image caption سروجنی اپنے بیمار شوہر جوگل کے ساتھ ریاست آندھرا پردیش سے رائے پور واپس آرہی تھیں

انڈیا کی مشرقی ریاست اڑیسہ کی ایک خاتون کو پیسوں کی مجبوری کی وجہ سے اپنے شوہر کی لاش کو ٹرین میں ہی چھوڑ کر آگے کا راستہ طے کرنا پڑا۔

سروجنی اپنے بیمار شوہر جوگل کے ساتھ ریاست آندھرا پردیش سے رائے پور واپس آ رہی تھیں کہ راستے میں ہی ان کے شوہر کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی اور ان کا انت‍قال ہو گيا۔

بیوی کی لاش اٹھا کر 12 کلومیٹر کا پیدل سفر

بھونیشور کے مقامی صحافی سندیپ ساہو نے سروجنی سے بات کہ تو انھوں نے روتے ہوئے ہوئے اپنی مجبوری بتائی۔

سروجنی نے بے بسی کے ان لمحوں کو یاد کرتے ہوئے کہا: 'بالکل انجان جگہ اور میں تنہا ان پڑھ عورت۔ اس پر تین چھوٹے چھوٹے بچے ساتھ میں۔ کھانے تک کے پیسے نہیں تھے تو کہاں جاتی؟ کیا کرتی؟ کس سے مدد مانگتی؟ سینے پر پتھر رکھ کر مجھے شوہر کی لاش کو ٹرین میں ہی چھوڑ کر بچوں کے ساتھ رائے پور جانے والی گاڑی میں بیٹھنا ہی پڑا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سروجنی کو اپنے شوہر کی لاش کو ٹرین میں ہی چھوڑ کر جانا پڑا

فون پر سروجنی نے کسی طرح گھر والوں کو اطلاع دی تو جوگل کے بڑے بھائی نیل اور ایک رشتہ دار نے رائے پور جا کر انھیں اور بچوں کو گاؤں لے گئے۔

نیل نے بتایا کہ ایک رشتہ دار کو جوگل کی لاش واپس لانے کے لیے ریاست مہاراشٹر میں ناگپور بھیجا گیا لیکن بڑی کوششوں کے بعد بھی جب کوئی اطلاع نہیں مل پائی تو انھیں خالی ہاتھ واپس آنا پڑا۔

بعد میں مہاراشٹر میں محکمہ ریلوے کے پولیس سپرنٹنڈنٹ شیلیش بلكاوڈے نے ناگپور میں مقامی صحافی سنجے تیواری کو بتایا کہ آندھرا پردیش سے آنے والی ایک ٹرین میں لاش ملی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم میں موت کی وجہ فطری بتایا گيا تھا اور دو دن بعد لاش کو دفنا دیا گیا۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ایسی لاشوں کو دفنایا اس لیے جاتا ہے تاکہ اگر بعد میں کوئی لاش مانگنے آئے تو اسے کھود کر پھر سے نکالا جا سکے۔

لاش نہ ملنے کی وجہ سے جوگل کی آخری رسومات تو نہیں ادا کی گئیں لیکن بدھ کو ہندو رسم و رواج کے مطابق دسویں کی رسم پوری کی گئی۔

اڑیسہ کے ہزاروں لوگوں کی طرح نواپاڑا ضلع کے گنڈامیر گاؤں میں رہنے والے 29 سالہ جوگل ناگ اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ آندھرا پردیش کے پیڈاپلّي میں اینٹوں کے بھٹے میں کام کرنے گئے تھے۔

لیکن کچھ دن بعد ہی وہ بیمار پڑ گئے تو بھٹے والے نے انھیں ٹکٹ دیکر ٹرین میں بٹھا دیا۔ ان کے پاس جو تھوڑے بہت پیسے تھے وہ راستے میں ہی ختم ہو گئے۔

ہر سال کھیتوں میں کٹائی کا کام ختم ہونے کے بعد نواپاڑا، کالا ہانڈی اور بولانگير اضلاع کے کسان مزدور تقریباً چھ ماہ کے لیے آندھرا پردیش اور دیگر ریاستوں کے اینٹوں کے بھٹے میں کام کرنے جاتے ہیں اور اپریل مئی میں واپس آ جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ OTV
Image caption اگست کے مہینے میں کالا ہانڈی کے ایک قبائیلی دانا مانجھی گاڑی نہ ملنے کی وجہ سے اپنی بیوی کی لاش کو اپنے کندھے پر ڈھو کر 60 کلومیٹر کے فاصلے پر اپنے گاؤں کے لیے نکل پڑے تھے

ایسے بھٹے مالکان کی طرف سے مزدوروں کے استحصال اور پر ان پر ظلم کے قصے آئے دن اخبار کی سرخیاں بنتے رہتے ہیں۔

واضح رہے کہ اگست کے مہینے میں کالا ہانڈی کے ایک قبائیلی دانا مانجھی گاڑی نہ ملنے کی وجہ سے اپنی بیوی کی لاش کو اپنے کندھے پر ڈھو کر 60 کلومیٹر کے فاصلے پر اپنے گاؤں کے لیے نکل پڑے تھے۔

بیوی کے لاش کو کندھے پر لے کر دانا قریب 12 کلومیٹر کا راستہ طے کر چکے تھے تب ایک مقامی صحافی کی نظر ان پر پڑ گئي تھی اور انھوں نے ایک ایمبولینس کا انتظام کیا جس میں دانا، ان کی 13 سال کی بیٹی اور ان کی بیوی کی لاش کو ان کے گاؤں پہنچایا گیا تھا۔

یہ واقعہ قومی اور بین الاقوامی میڈیا کی سرخیوں میں رہ چکا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں