انڈیا میں کہیں پیسے کے لیے قطاریں کہیں پیسہ پانی

شادی تصویر کے کاپی رائٹ KASHIF MASOOD
Image caption ابتدائی اندازے کے مطابق اس شادی میں تقریبا پانچ ارب روپے خرچ ہوئے۔

انڈیا میں نومبر کے مہینے میں جب کروڑوں شہری نوٹ کے بحران سے دو چار تھے اسی دوران جنوبی ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور میں منعقدہ ایک شادی میں پیسے پانی کی طرح بہائے گئے۔

اس شادی میں ہونے والے اخراجات پر ملک بھر میں بحث ہوئی۔ شادی میں سب سے زیادہ دلھن کے والد، بزنس مین اور سابق وزیر جناردن ریڈی پر بحث ہوئی۔

حکومت نے کالے دھن پر قابو پانے کے لیے 500 اور 1000 کے نوٹوں کو منسوخ کر دیا تھا۔ آئی ٹی فرم میں کام کرنے والی روما نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ بنگلور میں زیادہ تر اتوار کی چھٹی اے ٹی ایم کی قطاروں میں گنوا دیتی تھیں۔ ایسا محض 2000 روپے نکالنے کے لیے کرنا ہوتا تھا۔ اس وقت ایک دن میں اے ٹی ایم سے 2000 روپے سے زیادہ نہیں نکلتے تھے۔

ابتدائی اندازے کے مطابق اس شادی میں تقریباً پانچ ارب روپے خرچ ہوئے۔

روما نے بتایا: 'اے ٹی ایم کی قطاروں میں لوگوں کی زبان پر اس شادی پر بحث گرم رہتی تھی۔ ہم لوگوں نے ویڈیو میں اس شادی کے دعوت نامے دیکھے تھے۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر شادی کی تیاری بھی دیکھی تھی۔ ایسا ہم لوگ تب دیکھ رہے تھے جب 2000 روپے کے لیے عام لوگوں کو دن بھر قطاروں میں خجل ہونا پڑ رہا تھا۔ ہم سب حیران تھے کہ آخر ریڈی کو اپنی بیٹی کی شادی میں کروڑوں روپے خرچ کرنے کے لیے کیش کہاں سے مل رہا ہے؟ یہ پوری طرح سے ظلم نظر آ رہا تھا. ایسی شادی بغیر نوٹ بندی کے بھی خراب لگتی لیکن نوٹ بندی میں اس طرح سے پیسے کا بہایا جانا صحیح معنوں میں بیہودہ حرکت تھی۔'

بلا شبہ یہ بھارت کی سب سے مہنگی شادی تھی۔ ابتدائی اندازے کے مطابق اس شادی میں پانچ ارب روپے خرچ کیے گئے تھے۔ تاہم شادی کے بعد کے ہفتوں میں اس متوقع رقم میں ترمیم کی گئی تھی۔ پانچ دنوں تک چلنے والی شادی کی تقریب کوئی عام شادی نہیں تھی۔ اطلاعات کے مطابق اس میں سونے کے دعوت نامے بھیجے گئے تھے۔ شادی میں 50 ہزار مہمانوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ اس میں برازیل سے سامبا رقاصائیں بلائی گئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ JANARDHANA REDDY FAMILY
Image caption شادی کی تقریبات کم از کم پانچ دنوں تک جاری رہی

اس غیر معمولی شادی میں خرچ کرنے والے شخص کا نام جناردن ریڈی ہے۔ جنوبی بھارت میں کان کنی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ اور کرناٹک کے سابق وزیر سیاحت ریڈی بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے تین سال جیل کی ہوا بھی کھا چکے ہیں اور گذشتہ سال ضمانت پر رہا ہوئے تھے۔ ریڈی سارے الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ابھی تک انھیں کسی بھی صورت میں مجرم نہیں قرار دیا گیا ہے۔

اس مہنگی شادی کی گرما گرم بحث کے دوران انکم ٹیکس محکمے کے حکام نے بیلاری میں ان کی کان کنی کی کمپنی پر چھاپہ مارا۔ بیلاری بنگلور سے 300 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ دریں اثنا ریڈی کے دیگر ٹھکانوں پر بھی ریڈ کیے گئے ہیں۔ مسٹر ریڈی سے شادی میں ہونے والے اخراجات کی تفصیل طلب کی گئی۔ ریڈی نے کہا کہ انھوں نے شادی میں خرچ کرنے کے لیے بنگلور اور سنگاپور میں اپنی املاک کو گروی رکھا تھا۔ انھوں نے کہا کہ جائیداد گروی رکھنے کے بدلے انھیں پیسے شادی کی تیاری کے دوران ہی چھ ماہ پہلے مل گئے تھے۔

تاہم ریڈی کی اس دلیل سے کرناٹک میں زیادہ تر لوگ متفق نہیں ہیں۔ سیاسی کارکن ایس آر ہیرے مٹھ نے کہا کہ اس شادی میں بےایمانی سے حاصل کیے گئے فنڈز کو پانی کی طرح بہایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں ہیرے مٹھ نے ریڈی کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ انھوں نے بی بی سی سے کہا کہ اس معاملے میں سچ سورج اور چاند کی موجودگی کی طرح واضح ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس شادی میں دولت کا بھونڈا مظاہرہ ہوا ہے۔ ہیرے مٹھ نے کہا کہ جب لوگ دو ہزار اور چار ہزار روپے کے لیے قطاروں میں گھنٹوں انتظار کر رہے تھے، ایسے میں دولت کی نامناسب نمائش شرمناک ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس شادی میں دو سے پانچ ارب روپے خرچ کیے گئے۔ ایک پولیس کانسٹبل کے بیٹے جناردن ریڈی کی سرمایہ دار بننے کی رفتار کافی تیز رہی ہے۔ وہ آج کی تاریخ میں کرناٹک کے سب سے امیر شخص ہیں۔ جناردن ریڈی کے پاس جتنی ملکیت ہے اتنے ہی ان کی زندگی میں تنازعات بھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ KASHIF MASOOD
Image caption برازیل سے سامبا رقاصائیں بلائی گئیں

سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس سنتوش ہیگڑے کرناٹک کے محتسب اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔ ہیگڑے نے ریڈی کی مبینہ غیر قانونی کان کنی کی تفتیش کی تھی۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ریڈی نے اپنی طاقت کا غلط طریقے سے استعمال کیا ہے۔

تاہم ریڈی اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ انھوں نے کچھ بھی غلط کیا ہے۔ سنہ 2011 میں جسٹس ہیگڑے نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ سونپی تھی۔ اس رپورٹ میں انھوں نے بتایا تھا کہ ریڈی نے کرناٹک کا بہترین معیار کے لوہا غیر قانونی طریقے سے نکال کر چین کو ساڑھے چھ سے سات ہزار فی ٹن کے حساب سے فروخت کیا جبکہ اس سے ریاست کو محض 27 روپے کی آمدن ہوئی۔

انکوائری رپورٹ کے اندازے کے مطابق اس غیر قانونی کان کنی سے حکومت کو 161 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ جسٹس ہیگڑے نے کہا کہ وزیر کے پاس بنگلور میں بڑی تعداد میں عمارت اور اپارٹمنٹس ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان کے پاس آف شور یعنی ملک کے باہر اکاونٹس بھی ہیں۔

آندھرا پردیش میں پیدا ہونے والے جناردن ریڈی کالج کی پڑھائی سے دور رہے۔ سنہ 90 کی دہائی میں انھوں نے چٹ فنڈ بزنس کی شروعات کی تھی اور ناکام رہے تھے۔ اس کے بعد ریڈی نے کان کنی کی دنیا میں قدم رکھا تھا۔

پہلی بار جناردن ریڈی سنہ 1999 کے عام انتخابات میں شہ سرخیوں میں آئے۔ اس وقت انھوں نے بیلاری سے موجودہ وزیر خارجہ سشما سوراج کے حق میں انتخابی مہم میں شرکت کی تھی۔ جسٹس ہیگڑے نے بتایا کہ جناردن ریڈی اپنے دو بھائیوں جی كروناكر ریڈی اور جی سوم شیكھر ریڈی کے ساتھ مل کر بیلاری کو ذاتی ملکیت کی طرح چلاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جسٹس ہیگڑے نے جناردن ریڈی پر بدعنوانی کے الزامات لگائے

جب کان کنی سکینڈل سامنے آیا تو تین میں سے دو بھائی ریاستی حکومت میں وزیر کابینہ تھے۔ جسٹس ہیگڑے نے اپنی رپورٹ میں ایک چیپٹر کا ٹائٹل 'مسٹر ریڈی دی رپبلک آف بیلاری' رکھا ہے۔ ہیگڑے نے کہا کہ یہاں کوئی قانون کام نہیں کرتا۔

ہیگڑے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ریڈی نے غیر قانونی کان کنی میں ریاست کی حدود کو الپ پلٹ کر رکھ دیا۔ ریڈی نے قدیم مندروں کو مسمار کیا۔ انکوائری رپورٹ میں ریڈی کے جرائم کی طویل فہرست ہے۔

جسٹس ہیگڑے کی رپورٹ کی بنیاد پر ہی ستمبر سنہ 2011 میں ریڈی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ریڈی نے اپنی بیل کے لیے ساری کوششیں کی تھی۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ ضمانت کے لیے انھوں نے جج کو رشوت دینے کی بھی کوشش کی تھی۔ اس معاملے میں پیسے ضبط کیے گئے اور تین ججوں کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ اسے کیش فار بیل سکیم کہا گیا۔

ان الزامات پر ریڈی نے کچھ بھی نہیں کہا تھا۔ ریڈی کو بالآخر گذشتہ سال سپریم کورٹ کے حکم پر ضمانت مل گئی۔ انھیں بیلاری سے باہر رہنے کے لیے کہا گیا ہے تاہم عدالت نے بیٹی کی شادی میں شرکت کے لیے انھیں بیلاری جانے کی اجازت دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ KASHIF MASOOD
Image caption اس شادی میں پانی کی طرح پیسے بہانے کے الزامات لگائے گئے ہیں

اس مہنگی شادی کی وجہ سے جناردن ریڈی پھر سے بحث کا موضوع ہیں۔ اس وجہ سے دوسرے سکینڈل بھی سامنے آئے۔ اس ماہ کے آغاز میں بنگلور کے ایک بيوروكریٹ کے ڈرائیور رمیش گوڑا نے خود کشی کر لی۔ انھوں نے خودکشی کے نوٹ میں موت کے لیے ریڈی کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

گوڑا نے الزام لگایا تھا کہ انھیں جان سے مارنے کی دھمکی ملی تھی کیونکہ ان کے پاس ریڈی سے منسلک ایک اہم اطلاع تھی کہ انھوں نے ایک ارب کالا دھن شادی میں کس طرح استعمال کیا۔ تاہم ریڈی اس الزام پر بھی چپ رہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں