سی پیک منصوبہ: انڈیا کو شمولیت کی پاکستانی پیشکش، چین جواب کا منتظر

چین نے کہا ہے کہ اسے معلوم نہیں کہ اقتصادی راہداری منصوبے میں پاکستان کی جانب سے انڈیا کو شمولیت کی پیشکش پر اس کا ردِعمل کیا ہو گا۔

تاہم وہ چاہتا ہے کہ تیسرے فریق کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں متعارف کرنے کے امکانات پر فیصلہ پاکستان سے مشاورت اور ہم آہنگی کی بنیاد پر ہو۔

یاد رہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری 46 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے جس پر کام تیزی سے جاری ہے۔

پاکستان کو اندرونی طور پر سیاسی سطح پر اور بلوچستان میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کی بنا پر اس منصوبے کے حوالے سے بہت سی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

٭سی پیک پر 'خاموش سفارتکاری' کا خاتمہ

٭گوادر کی تاریخ پر ایک نظر

پاکستانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کے سدرن کمانڈر لیفٹننٹ جنرل عامر ریاض نے 20 دسمبر کو کوئٹہ میں ایک تقریب سے خطاب میں انڈیا کو پیشکش کی تھی کہ وہ ایران اور افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک کی طرح سی پیک میں شامل ہو اور دشمنی ختم کرے۔

جمعے کو بریفنگ کے دوران چینی دفترِ خارجہ کی ترجمان ہوا چن سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان اور چین کے درمیان انڈیا کو اس منصوبے میں شامل کرنے پر کوئی مشاورت ہوئی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے ان رپورٹس کو دیکھا ہے۔ میں سوچ رہی ہوں کہ کیا انڈیا پاکستانی جنرل کی اس پیشکش کو خیرسگالی کے طور پر لے گا یا نہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے پاک چین اقتصادی راہداری باہمی تعلقات کے فریم ورک کی بنیاد ہے جو مختلف شعبوں میں دوطرفہ طور پر طویل المدتی تعاون اور ترقی پر مرکوز ہے۔

چینی دفترِ خارجہ کی ترجمان نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس منصوبے سے نہ صرف دونوں ملکوں میں معاشی اور سماجی ترقی ہو گی بلکہ اس کا علاقائی تعلقات، امن، استحکام اور خوشحالی میں بھی کردار ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

چین کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں سی پیک چائنا بیلٹ اور شاہراؤں کے منصوبوں کی جانب ایک کھلی پیش قدمی ہے۔

ادھر انڈین میڈیا میں چینی دفترِ خارجہ کے اس بیان کی کوریج بھی دیکھنے کو ملی۔

این ڈی ٹی وی کا کہنا ہے کہ چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان کا بیان گلوبل ٹائمز کے ان آرٹیکلز کے بعد آیا ہے جس میں انڈیا کو یہ تجویز دی جا رہی ہے کہ وہ اس منصوبے میں شامل ہونے کے لیے لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کی تجویز کو قبول کریں۔

این ڈی ٹی وی کا کہنا ہے کہ سی پیک میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی شمولیت پر انڈیا کواعتراض ہے اور یہ دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات میں شامل ہے۔ جبکہ چین جوہری سپلائر گروپ ، این ایس جی میں انڈیا کی شمولیت اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر پر پابندی کی راہ میں حائل ہے۔

'دونوں ممالک ان امور پر بات کرتے ہیں اور ریاض کا بیان اس پر انڈیا کے درِعمل کا اندازہ لگانے کے لیے ہے۔'

یاد رہے کہ انڈین وزیرِ خارجہ سشما سوراج نے اگست میں اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات میں اقتصادی راہداری منصوبے میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی شمولیت پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق چین کے سفیر سن ویڈونگ نے ایران کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت دی تھی۔

ستمبر میں ایران کے صدر حسن روحانی نے پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے ملاقات میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

تاہم ایک ماہ قبل روس نے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی ایسی خبروں کو 'حقائق کے منافی' قرار دیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ روس پاکستان چین اکنامک کاریڈور میں شمولیت کے لیے پاکستان سے خفیہ مذاکرات کر رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں