انڈیا کے پارسیوں کے نام کھانوں پر کیسے پڑے؟

اگر یہ کہا جائے کہ انڈیا کے پارسی کھانے کو سنجیدگی سے بلکہ انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں تو یہ کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔

اچھے کھانے اور مشروبات سے محبت ہماری ثقافت کے تقریباً ہر پہلو میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔

جب ہمارے بچے پہلی مرتبہ بیٹھنا شروع کرتے ہیں تو ہم انھیں لڈوؤں کے اوپر بٹھا کر خوشی مناتے ہیں۔ پارسیوں کے ہاں شادیوں میں ’جاموا چلو جی‘ یا ’کھانا لگ چکا ہے‘ کی آواز مدہوش کر دینے والی آواز لگتی ہے۔

شادیوں کا موازنہ مکمل طور پر دال چاول کی کوالٹی اور پترانی مچھلی کی تازگی سے کیا جاتا ہے۔

کسی بھی دیگر موقعے یا کامیابی پر ہم روزہ رکھنے سے پرہیز کرنے کی مکمل کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے مذہب میں اسے گناہ بتایا گیا ہے۔

کھانے ہماری شناخت کا حصہ ہیں اور اکثر تو یہ ہمارے ناموں میں بھی شامل ہوتے ہیں۔ درحقیقت پارسیوں کے ناموں میں کئی لذیذ کھانوں کے ساتھ تعلق بھی جھلکتا ہے۔

ایک خاندان نے جس کا پرانا تعلق انڈیا کے مغربی شہر سورت سے ہے واقعی کھانا بنانے کے فن میں ناکام ہونے پر وسیکُسی نام پایا جس کا مطلب بد مزہ کھانا ہے۔

دیگر پارسیوں کے ناموں کے ساتھ بوملہ جو کہ گجراتی میں ایک خاص مچلھی کو کہتے ہیں اور گوٹلہ جو کہ ایک پھل کے بیج کو کہا جاتا ہے لگایا جاتا ہے۔

خاص طور پر غیر معمولی ناموں کی فہرست ہے جن کا اختتام لاحقے ’کھاؤ‘ پر ہوتا ہے۔ جس کا مطلب کھانے کی خواہش یا لالچ ہے۔

جیسے کہ بھاجی کھاؤ یعنی سبزیاں کھانے والے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تمام پارسی گوشت خور نہیں ہوتے۔

بہت سے نام تو ککڑی یا کھیرے کے گرد گھومتے ہیں۔ جیسے کہ ککڑی کھاؤ جبکہ ککڑی چور تک نام ملتے ہیں۔

انڈیا کے پارسیوں میں شاید جو سب سے مشہور نام ملتا ہے وہ سوڈا واٹر بوتل اوپنر والا ہے۔ ممبئی میں رہنے والوں میں آپ کو مصالحہ والا، ناریل والا، پاؤ والا بھی ملیں گے۔

جمستجی جیجیبھوئے جو کہ افیون کا کاروبار کرتے تھے نے 1800 کے وسط میں اس وقت کے بمبئی میں آئس کریم متعارف کروائی تو آئس والا نام بھی سنائی دینے لگا۔

اس کے بعد سنہ 1930 کی دہائی میں جینادرو کیک والا ’سب سے بہترین اور خالص‘ کیک بنانے کے لیے مشہور ہوئے۔

الکوہل کے نام

فلورا فاؤنٹین کے قریب ایک چھوٹا سا علاقہ پتھا سٹریٹ کا نام قدیم پارسی شراب خانے (پتھا) سے اخذ کیا گیا ہے۔

پتھا سٹریٹ سے ہمیں یہ ایک اہم بات معلوم ہوتی ہے کہ پارسی نہ صرف شراب نوشی کے شوقین ہیں بلکہ اس کے کاروبار میں بھی انڈیا بھر میں چھائے ہوئے ہیں۔

ملتان سے لے کر مدراس تک پیاسے ہندوستانیوں کو معلوم تھا کہ دارو والا اور دارو خانے والا کو کہاں تلاش کیا جا سکتا ہے۔

بعض پارسیوں نے اپنے ناموں کے ساتھ ایسے نام جوڑے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون سے قسم کی شراب بناتے یا فروخت کرتے ہیں۔ جیسے کہ وائن بنانے والے کے نام کے ساتھ رم والا اور توڑے والا۔

مھاتما گاندھی نے پارسیوں سے شراب چھوڑنے اور شراب کی دوکانوں کو بند کرنے کی درخواست کی لیکن ایسے بہت کم تھے جنھوں نے ان کی اس درخواست پر کان دھرے۔

پارسیوں کے لیے کھانے سے محبت ان کے مرنے کے بعد بھی رہتی ہے۔ آخری رسومات کے موقع پر ہم مرنے والے کے اعزاز میں ان کی پسندیدہ کھانوں میں سے بعض مندر میں رکھ دیتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں