جاڑوں کے چٹخارے

تندور تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سردیوں میں لوگ تندور کے گرد کھانے کے علاوہ گرمی حاصل کرنے کے لیے بھی یکجا رہتے ہیں

سردیوں کا موسم شروع ہوتے ہی ماحول کا رنگ بدل جاتا ہے۔ سورج کی تپش اور گرم ہوا کے تھپیڑے فضا سے ایسے غائب ہو جاتے ہیں گویا ان کا وجود ہی نہیں تھا۔

کن منی دھوپ اور گلابی جاڑوں کی شام کا فسوں نرالا ہوتا ہے۔ میٹھی میٹھی دھوپ میں سوندھی ریت میں بھنی منگ پھلی کا مزا لینا جاڑوں کا بہترین مشغلہ ہے۔ انڈیا میں سردیوں کے دن خوشگوار اور راتیں یخ بستہ ہوتی ہیں۔

موسم سرما کے آتے ہی بھوک کی شدت بڑھ جاتی ہے، ہاضمہ قوی تر ہو جاتا ہے اور زبان لذیذ مرغن غذاؤں کی متلاشی رہتی ہے۔ موسم سرما میں ہمارے جسم کو اضافی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے دل چاہتا ہے کہ ایسے کھانے کھائے جائيں جو غذائیت سے بھرپور ہوں اور جسم کو گرمی پہنچانے کے ساتھ لذت و ذائقے میں بھی اپنی مثال آپ ہوں۔

سرد ہوا کا جھونکا کیا آیا بازار میں خشک میووں کا ڈھیر لگ گیا۔ گڑ کی ڈلیوں کی سوغات اور چاٹ کے پتوں کی بہار، پانی کے بتاشے، دلی کے چٹ پٹے آلو یا بڑی اور سیو پوری کے لیے ہرایک چاٹ کی دکان پر دوڑا چلا جاتا ہے۔ ریوڑی والا آوازوں پر آوازیں لگاتا ہے 'گڑ کی ریوڑی، تل کی پٹی، گلاب میں بسی گجک، سردیوں کا تحفہ جلد آؤ لے جاؤ'۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جاڑوں میں تازہ سبزیوں کے پراٹھے پنجاب کا خاصہ ہیں

کونے میں بیٹھا چھوٹا سا لڑکا مونگ پھلی کا ڈھیر لگائے گاہکوں کو للچاتا ہے اور چائے کی دکان پر گاہک ٹوٹا پڑتا ہے۔ ابلے انڈے والا الگ شور مچاتا ہے۔ الغرض سردیوں میں بازار کی رونق دوبالا ہوجاتی ہے۔ کباب کی دکان پر بھیڑ لگی رہتی ہے اور نانبائي ہاتھ کی روٹیاں سینکتے سینکتے تھک جاتا ہے۔

گھروں میں باورچی خانے سے روایتی پکوانوں کی اٹھنے والی اشتہا انگیز خوشبو، بہترین سبزیوں اور پھلوں کی آمد موسم سرما کے رنگوں میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ سردیوں کاموسم مرغن اور مقوی کھانوں کا موسم ہے۔

ہندوستان کے شمالی حصے میں جاڑوں کے مخصوص کھانے بڑے چاؤ سے تیار کیے جاتے ہیں۔ ہر منطقے کی اپنی بہار ہے۔ اگر پنجاب کے سرسوں کے ساگ اور مکی کی روٹی، موسمی ترکاریوں کے پراٹھے کا شہرہ ہے تو دلی اور لکھنؤ میں نہاری اور کلچے کی بہار، پائے کا شوربا اور تندور کی روٹی۔ گاہک پیالے پر پیالہ چڑھائے جاتا ہے پھر بھی سیر نہیں ہوتا۔

کشمیر میں سردیوں کے موسم کا خاص اہتمام ہوتا ہے۔ سردیاں آئیں اور شب دیگ کی ہانڈی چڑھی جو لکھنؤ کی شب دیگ سے مختلف ہوتی ہے کیونکہ اس میں بطخ کا استعمال ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جاڑوں میں بھنی ہوئی مونگ پھلی کا مزا لینا بر صغیر میں خاص و عام کا مشغلہ رہتا ہے

کشمیری سردیوں کی آمد سے قبل گرمیوں کے موسم کی سبزیاں دھوپ میں خشک کر لیتے ہیں اور پھر سردیوں میں ان کا استعمال کرتے ہوئے نت نئے پکوان تیار کرتے ہیں۔ ہریسہ بھی وادیِ کشمیر کا روایتی پکوان ہے جو صرف اور صرف سردیوں میں بنایا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک افغان گورنر اس کا اتنا شوقین تھا کہ اسے کھاتے کھاتے ہی اپنی جان دے دی۔

بالی وڈ اداکار رنبیر کپور ہر سال کشمیر سے ہریسہ منگوا کر اپنا شوق پورا کرتے ہیں۔ یہ گوشت چاول، سونف اور دیگر مسالوں سے تیار کیا جاتا ہے اور اپنی مثال آپ ہوتا ہے۔

مکئی، باجرے اور جوار کی روٹیوں کے ساتھ مزیدار تیکھے بھرتے، کچی ہلدی کی سبزی، لال ماس، گڑ باجرے کا راب، گوند کے لڈو، ہرے بھرے مونگ کے تازہ دانے ریگستانی راجستھان کے اہم پکوان ہیں جو بےحد پسند کیے جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گرما گرم بڑیاں بھی جاڑوں میں خاص طور پر پسند کی جاتی ہیں

یہ کیسے ممکن ہے کہ سردیوں میں حلوہ جات کا ذکر نہ کیا جائے۔ گھر گھر گاجر کے حلوے کا انتظار رہتا ہے۔ حلوائیوں کی کڑھائی میں گرم الائچی اور زعفران سے مہکتے دودھ اور تھال میں سجے انواع و اقسام کے گھی سے تربتر حلوے گاہکوں کے منتظر رہتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنے سارے مرغن کھانوں کے باوجود ہمارے وزن میں اضافہ نہیں ہوتا۔ لیکن کیوں؟ اس کا سبب یہ ہے کہ ان غذاؤں سے حاصل کیلوریز کو ہمارا جسم سردی سے محفوظ رکھنے میں استعمال کرتا ہے۔ یہ لذیذ اور مقوی کھانے ہمیں سردیوں کے اثرات سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

تو پھر آپ بھی ان چٹخارے کھانوں کے ساتھ سردی کے موسم کا لطف اٹھائيے۔

٭ (سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔)

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں