’چین نے مسعود اظہر کو بلیک لسٹ کرنے کا راستہ روک دیا‘

مسعود اظہر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر حملے کے بعد ممبئی میں مولانا مسعود اظہر کے خلاف مظاہرہ

انڈیا نے جمعے کے روز کہا ہے کہ چین نے انڈیا کی جانب سے شدت پسند تنظیم جیشِ محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کا نام اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ممنوع تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کی کوشش مسدود کر دی ہے۔

انڈیا جیشِ محمد اور مولانا مسعود اظہر پر اپنی سرزمین پر کیے جانے والے کئی حملوں میں ملوث ہونے کا الزام لگاتا ہے، جن میں جنوری میں پٹھان کوٹ کے فضائی اڈے پر کیا جانے والا حملہ بھی شامل ہے۔

پاکستانی سکیورٹی حکام نے حملے کے بعد مسعود اظہر اور ان کے ساتھیوں سے پوچھ گچھ کی تھی تاہم کہا تھا کہ انھیں اس حملے میں ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

جیشِ محمد پہلے ہی سے 15 رکنی سلامتی کونسل کی ممنوع تنظیموں میں شامل ہے، لیکن مولانا اظہر کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہیں ہے۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ نے کہا کہ انڈیا نے نو ماہ قبل درخواست کی تھی کہ مولانا اظہر کا نام اس فہرست میں شامل کیا جائے، اور اسے دیگر ملکوں کی جانب سے حمایت ملی تھی۔

انھوں نے کہا کہ تاہم چین، جس نے اپریل میں اسے قرارداد کو ملتوی کر دیا تھا، اب اسے مسدود کر دیا ہے۔

وکاس سواروپ نے ایک بیان میں کہا: 'ہمیں چین سے توقع تھی کہ وہ دہشت گردی سے ہر کسی کو لاحق خطرے کا زیادہ بہتر ادراک کرے گا۔'

انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کی جانب کی دہشت گردی کے خلاف کارروائی نہ کر پانے کی وجہ 'دہرے معیار' ہیں۔

چین کی وزارتِ خارجہ نے اس بارے میں کوئی بیان نہیں دیا۔

انڈیا ایک عرصے سے پاکستان پر جیشِ محمد کو بطور پراکسی استعمال کرنے کا الزام عائد کرتا چلا آیا ہے۔ پاکستان اس سے انکار کرتا ہے۔

اسی بارے میں