انڈیا کے مارمن پیار کی تلاش میں

تصویر کے کاپی رائٹ IAN TRUEGER

انڈیا کے شہر حیدرآباد سے 25 کلومیٹر کی مسافت پر تفریح کے لیے ایک پرفضا مقام ہے۔

22 ایکڑ کے رقبے پر بنی یہ تفریح گاہ شادی بیاہ، مختلف تقریبات اور چھٹیاں گزارنے کے لیے استعمال میں آتی ہے۔

ہفتے کے اختتام پر انڈیا بھر میں موجود مسیحی فرقے مارمن سے تعلق رکھنے والے 400 افراد نے غیر شادی شدہ نوجوانوں کے لیے پہلی کانفرنس کا انعقاد کیا۔

اس کانفرنس کا موضوع تھا ’فیصلے قسمت کا تعین کرتے ہیں‘ اور اس حوالے سے مختلف ورکشاپس کا انعقاد بھی کیا گیا۔

اس پروگرام میں شرکت کرنے والے افراد سے بات چیت کے بعد اس سے متعلق زیادہ وضاحت بھی ہوئی۔

اٹھارہ سالہ وینالا نے کہا کہ 'یہ راز نہیں کہ ہم سب یہاں اپنا ساتھی تلاش کرنے آئے ہیں۔'

وہاں موجود آڈیٹوریم میں 100 سے زیادہ لوگ دکھائی دیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ IAN TRUEGER

جدید رومانس کی برائیوں پر بات شروع کرنے سے قبل نتاراجن نے کہا' اگر آپ سو رہے ہیں تو پلیز توجہ دیجیے۔'

سسٹر ہبر نے کہا کہ یہ 'ڈیٹنگ کی کلاس ہے۔ '

نتاراجن نے بتایا کہ ڈیٹ کے موقع پر کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔

ان کا کہنا تھگ کہ 'اپ جو بھی کریں لیکن فیس بک پر کبھی کسی کو پرپوز نہ کریں۔'

ان کا کہنا تھا کہ ہر سال چنئی میں مورمن کی صرف چار یا پانچ شادیاں ہوتی ہے جو کہ کافی نہیں ہے۔'

اس ایونٹ کا انعقاد کرنے والے وائے ایس اے نامی گروپ اور چرچ انتظامیہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس معاملے پر بھی بات ہوگی۔

مارمنز میں شادی کا مطلب ہے جڑ جانا یعنی وہاں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ شادی کرنے والے انسانوں کی روحیں ابدی طور پر ایک دوسرے سے بندھ جاتی ہیں۔

وہاں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد بھی خاندان قائم رہتا ہے۔

خیال رہے کہ انڈیا میں اس مسیح فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد بارہ ہزار سات سو ہے۔

لیکن اس فرقے میں شادیوں کا کم ہونا اس بات کی علامت ہے کہ وہاں دینی مسائل آڑے آتے ہیں اور بہت سی پابندیاں بھی ہیں۔

مورمن چرچ کے پاس تبلیغ کے لیے افراد کی تعداد بھی بہت کم ہے۔

انڈیا میں بسنے والے اس فرقے میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو کیتھولک یا پروٹیسٹنٹ فرقے کو چھوڑ کر آئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ IAN TRUEGER

انڈیا میں مارمن چرچ کی بنیاد سنہ 1850 میں رکھی گئی تھی تاہم اسے مستقل طور پر قائم کرنے کی اجازت ایک سو تیس سال بعد ملی۔

لیکن انڈیا میں اس چرچ اور اس کی تبلیغی سرگرمیاں بہت کم دیکھنے کو ملی جس کی وجہ یہ ہے کہ انڈین حکومت اس جانب مائل نظر نہیں آتی۔

دوسرے یہاں مشنری یعنی تبلیغ کے لیے محفوظ ویزا بھی ایک مسئلہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تبلیع کا انحصار وہاں موجود انڈین مارمنز پر ہی ہوتا ہے۔

کانفرنس میں موجود ایک منتظم نوسانتھا پرابھکر نے بتایا کہ بینگلور میں وہاں مورمن اپنے نام کا سیاہ اور سفید ٹیگ استعمال نہیں کرتے کیونکہ انھیں مخالفین کے حملے کا خطرہ ہوتا ہے۔

دیپانشو یادیو اور پریتی جھادو گذشتہ برس وائے ایس اے کی کانفرنس میں ہی ملے تھے اور پھر وہیں انھوں نے حیدرآباد میں ڈیٹنگ شر وع کی۔

یادیو کہتے ہیں کہ 'اس ایونٹ کا اہم مقصد یہی ہے۔'

وینیلا وکاپالی نے انڈیا کے مارمن چرچ کی تاریخ پر بات کرنے کے بعد میں نے پوچھا کہ کیا انھیں پانے لیے کوئی موزوں ساتھی ملا تو ان کا کہنا تھا کہ 'ہر کوئی مجھ سے یہی سوال کرتا ہے۔'

'اس سے پہلے کسی نے مجھے پوچھا کہ کیا تم اپنے شوہر سے ملی ہو؟ میں نے کہا نہیں میری عمر ابھی 18 برس ہے۔'

جواب میں انھوں نے کہا کہ 'انھوں نے مجھے بتایا ہے، وہ یہیں کہیں اردگرد ہے جاؤ اور تلاش کرو۔'

متعلقہ عنوانات