چین میں ’ٹرمپ نما مرغ کا مجسمہ‘

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شاید تجارت اور تائیوان کے حوالے سے اپنے بیانات کی وجہ سے چین کو برہم کیا ہے لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ انھوں نے چینی عوام میں بھی مقبولیت حاصل کی ہے۔

نئے چینی سال کو مرغ کا سال قرار دیا گیا ہے اور اسی ضمن میں شانزی صوبے کے شہر تائی یوآن کے ایک شاپنگ سینٹر کے باہر ٹرمپ سے مبینہ مشاہبت رکھنے والا ایک مجسمہ نصب کیا گیا ہے۔

اس مجسمے کے ڈیزاینر نے چینی میڈیا کو بتایا کہ وہ ان کے بالوں کے سٹائل اور ہاتھوں کے اشاروں سے متاثر ہوئے تھے۔

چینی نیا قمری سال 28 جنوری سے شروع ہورہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
تصویر کے کاپی رائٹ AFP

چین میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ امریکی نومنتخب صدر اور کسی پرندے کے درمیان مشابہت کو پیش کیا گیا ہو۔

نومبر میں ہینگشو کے ایک سنہری چکور کو اس وقت انٹرنیٹ پر شہرت ملی جب ایک شخص نے اس جانب توجہ دلائی کہ اس پرندے کے سر پر بالوں کا سٹائل اور نیلی آنکھیں ڈونلڈ‌ ٹرمپ سے مشابہت رکھتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ @PDChina

خیال رہے کہ بیجنگ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کئے گئے حالیہ چند اقدامات کی وجہ سے نالاں ہے، جن میں ایک چین مخالف ناقد کو تجارتی عہدے پر تعینات کرنا شامل ہیں۔ ٹرمپ نے امریکہ کی طویل المدت ’ون چائنہ‘ پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تائیوان کی صدر سے براہ راست بات بھی کی تھی۔

اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر امریکہ کا زیرسمندر ڈرون چرانے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔

چینی ذوڈیاک نظام میں مختلف سالوں کو مختلف جانوروں کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔ اس نظام کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ کا نشان کتے کا ہے جسے وفادار، ایماندار اور سیاست کے شعبے کے موضوع تصور کیا جاتا ہے تاہم ان خصوصیات کے ساتھ ساتھ اس نشان کو ضدی اور دنیا کو اپنا دشمن سمجھنے کی عادت والا بھی مانا جاتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں