اکھیلیش یادو کی سماج وادی پارٹی میں رکنیت بحال

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اکلیش یادیو پارٹی میں خاصے مقبول ہیں

انڈیا میں آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اکھیلیش یادو کو پارٹی سے نکالنے کے فیصلے کو ان کے والد اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادیو نے ایک دن واپس لے لیا ہے۔

وزیر اعلی اکھیلیش یادو کو آئندہ انتخابات میں پارٹی کے ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلافات کے بعد ان کے والد نے پارٹی سے چھ سال کے لیے نکال دیا تھا۔

گزشتہ روز جمعہ کو ملائم سنگھ نے اکھیلیش یادو کے علاوہ اپنے بھیجے رام گوپال سنگھ کو بھی پارٹی سے نکال دیا تھا۔

ملائم سنگھ یادیو نے وزیر اعلی کے عہدے پر فائز اپنے بیٹے سے سنیچر کو ملاقات کی جس میں پارٹی ذرائع کے مطابق آئندہ انتخابات میں پارٹی امیدواروں کی فہرست پر دونوں کے درمیان تصفیہ ہو گیا۔

ملائم سنگھ اور اکلیش سنگھ کے درمیان ملاقات کے بعد اکلیش کے چچا نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ تمام غلط فہمیاں دور ہو گئی ہیں۔

اکلیش سنگھ نے جمعرات کو آئندہ انتخابات کے لیے 235 ناموں پر مشتمل پارٹی کے امیدواروں کی ایک فہرست جاری کی تھی جس کے بعد ملائم سنگھ نے انھیں پارٹی سے چھ سال کے عرصے کے لیے برطرف کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اکھیلیش یادو کی طرف سے فہرست جاری کیے جانے سے پہلے پارٹی ریاستی انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کی فہرست جاری کر چکی تھی۔

اکھیلیش یادو کی فہرست میں بہت سے ایسے نام شامل تھے جو ان اپنے حامی تھے اور بہت سے ایسے نام شامل نہیں کیے گئے تھے جو ان کے والد کے پرانے معتمد اور حمائتی تھے۔

اتر پردیس میں ریاستی انتخابات کی تاریخی کو اعلان جلد متوقع ہے۔

رام گوپال سنگھ جو سابق وزیر اعلی اور پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادیو کے بھتیجے ہیں انھیں یکم جنوری کو پارٹی کا اجلاس طلب کرنے کی پاداش میں پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ پارٹی کے سربراہ کے مطابق پارٹی کے اجلاس کو طلب کرنے کا اختیار پارٹی کے قانون کے تحت صرف ان کے پاس ہے۔

شیو پال یادیو جو ملائم سنگھ کے بھائی ہیں انھوں نے باپ بیٹے کے درمیان اختلاف دور ہو جانے کے بعد کہا کہ اب وہ متحدہ ہو کر آئندہ انتخابات میں حصہ لیں گے اور ریاست میں نئی حکومت تشکیل دیں گے۔

انڈین اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ملائم سنگھ کے فیصلے کے بعد وزیر اعلی اکھیلیش یادو کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر سینکڑوں کی تعداد میں ان کے حامی جمع ہونا شروع ہو گئے تھے اور جن میں بہت غم اور غصہ پایا جاتا تھا۔

ذرائع کے مطابق پارٹی کے کل 229 ارکانِ اسمبلی میں سے دو سو نے ایک اجلاس میں شرکت کی جس میں اکھیلیش یادو کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا گیا۔

یادیو خاندان کے بیس سے زیادہ ارکان انڈیا میں اتر پردیس کی سیاست میں سرگرم ہیں۔ ان کے درمیان ایک عرصے سے اختلافات پیدا ہو رہے تھے جو کہ باہمی جگھڑوں اور پارٹی میں دھڑے بندیوں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔

بہت سے سیاسی تجزیہ نگاروں کے بقول اکھیلیش یادو اپنے والد سے کہیں زیادہ مقبول ہیں کیونکہ وہ بھارت کی سیاست میں موجود ذات برادری اور مذہبی تقسیم سے بلند ہو کر سیاست کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔