انڈیا: سیاست میں مذہب، ذات پات کے استعمال پر پابندی

hindu nationalists تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈین سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے سیاست دانوں کی طرف سے انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے مذہب اور ذات پات کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔

پیر کے روز جاری کیے جانے والے ایک فیصلے میں جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے کہا ہے کہ کوئی بھی سیاست دان ذات پات، عقیدے اور مذہب کی بنیاد پر ووٹ نہیں مانگ سکتا۔

اپنے فیصلے میں انھوں نے کہا ہے کہ انتخابات کو ہمیشہ سیکیولر عمل رہنا چاہیے۔

٭ انڈیا میں ذات پات کا نظام کیا ہے؟

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ سیاسی جماعتوں کو آئندہ انتخابات میں حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

انڈیا سرکاری طور پر سیکیولر ریاست ہے لیکن سیاسی جماعتیں روایتی طور پر امیدواروں کی نامزدگی اور ووٹوں کے حصول کے لیے مذہب اور ذات پات کو معیار کے طور پر استعمال کرتی رہی ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
انڈیا کی سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمد درآمد اور قانون کی خلاف ورزی کا تعین مشکل ہوگا۔

٭

وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے سالہاسال تک اپنے ہندو قومیتی ایجنڈے پر انتخابات لڑے ہیں اور ماضی میں پارٹی ارکان پر ہندو ووٹوں کو تقسیم کرنے کے لیے مسلمان مخالف بیانات دینے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔

اعلیٰ عدالت کا فیصلہ انڈیا کی سب سے گنجان آباد ریاست اترپردیش میں ریاستی انتخابات سے پہلے آیا ہے جہاں مذہب اور ذات پات انتخابی مہم کے دوران عام طور پر سب سے اہم حیثیت حاصل کرتے ہیں۔

اس ریاست کے نتائج وزیراعظم مودی کے 2019 میں دوسری مدت کے لیے انتخاب کے سلسلے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

اتر پردیش کے علاوہ اسی سال پنجاب، اترکھنڈ، گوا اور منی پور میں بھی ریاستی انتخابات ہو رہے ہیں۔

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ایک سیاست دان کی طرف سے 1996 میں دائر کی گئی ایک پٹیشن پر دیا گیا ہے اور اپنے فیصلے میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ آئین کی سیکیولر روح کا تحفظ ضروری ہے۔

اپنے اکثریتی فیصلے میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے قرار دیا ہے کہ اگر کسی سیاست دان نے مذہب کی بنیاد پر ووٹ مانگے تو انتخابات کو کالعدم قرار دے دیا جائے گا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے بی بی سی اردود سے بات کرتے ہوئے انڈیا کے روزنامہ ’دی ہندو‘ کے سابق مدیر اور تجزیہ کار سدہارت وردراجن کا کہنا تھا کہ اس قانون سے وہ غلط فہمی یا الجھاؤ ختم ہوا ہے جو خود سپریم کورٹ کے سنہ 1996 کے ایک حکم کے نتیجے میں پیدا ہو گیا تھا۔

ان کے بقول اب سیاستدانوں کی اس بات میں زیادہ وزن نہیں رہے گا کہ چونکہ مذہب ایک طریقۂ حیات ہے اس لیے سیاست میں اس کے ذکر سے یہ مطلب لینا درست نہیں کہ وہ مذہب کے نام پر سیاست کر رہے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی اہمیت کیا ہے، سدہارت وردراجن کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک نظریات یا تھیوری (نظریے) کا تعلق ہے تو اس فیصلے سے سپریم کورٹ نے صورت حال کی وضاحت کر دی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’سنہ 1996 کے فیصلے کے بعد سیاستدانوں کا خیال تھا کہ وہ اب بھی مذہب کے نام پر ووٹ مانگ سکتے ہیں، لیکن اب سیاستدانوں کو محتاط ہونا پڑے گا، تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اور دیگر ادارے اس قانون پر عمل درآمد کرا پاتے ہیں یا نہیں اور اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے سیاستدانوں کے خلاف کیا کارروائی ہوتی ہے۔‘

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ آیا خود حکمران جماعت، بھارتیہ جنتا پارٹی، کی سیاست کو بھی نئے قانون سے نقصان ہو سکتا ہے، سدہارت وردراجن نے کہا کہ اب بی جے پی اور دیگر جماعتوں کے لیے مذہب کے نام پر ووٹ مانگنا مشکل ہو گیا ہے۔‘

’اگر پارٹی کی سطح پر نہیں تو انفرادی سطح پر بی جے پی، اکالی دل اور کئی دیگر جماعتوں کے انتخابی امیدوار عام طور پر کھلے عام مذہب یا ذات پات کے نام پر سیاست کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً بی جے پی کا نظریہ یہ ہے کہ ہندوستانی عوام اصل میں ہندو ہیں اور راشٹریا سیوک سنگ (آر ایس ایس) کا بنیادی نظریہ بھی ہے لیکن نئے قانون کے بعد ان کے لیے کھلے عام مذہب کا نام لینا مشکل ہو جائے گا۔‘

اسی بارے میں