’سارے مرد ایک جیسے نہیں ہوتے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ BANGALORE MIRROR
Image caption سالِ نو کے موقع پر پولیس ایک ہجوم کے خلاف لاٹھی چارج کر رہی ہے

انڈیا میں سالِ نو کے موقع پر خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات پر ایک سیاسی رہنما کے بیان سے ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے مگر بات یہاں پر نہیں رکتی، ان کے اس بیان کے جواب میں ایک ٹرینڈ سامنے آیا ہے جو مردوں کی جانب سے ہے۔

ناٹ آل مین یعنی سب مرد ایسے نہیں کہ ہیش ٹیگ کے ساتھ چلنے والا ٹرینڈ یہ کہتا ہے کہ سارے مرد ایسے نہیں ہوتے۔

اب یہ ٹرینڈ جہاں مردوں کے موقف کو سامنے لاتا ہے اور اس سے قبل لا چکا ہے مگر انڈیا میں اس کے استعمال پر تنقید کی جا رہی ہے جس کے مطابق 'سالِ نو کے موقع پر بڑی تعداد میں خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات ہوئے جن میں مردوں کی بڑی تعداد ملوث تھی یا خاموش تھی۔'

انوجا نے اسی ہیش ٹیگ کا استعمال کرتے ہوئے لکھا 'بنگلور کے واقعات کے بعد یہ یقینی ہے کہ تمام مرد ایک جیسے نہیں ہوتے مگر بہت سے درندے اور وحشی ہوتے ہیں۔'

پرتیک مکھرجی نے لکھا 'بنگلور میں مردوں نے اتنا نشہ کر لیا تھا کہ انھوں نے بنگلور کو بنکاک سمجھ لیا تھا۔'

ووت نے لکھا کہ 'تمام مردوں کو خواتین کے پبلک میں مختصر کپڑے پہننے پر اعتراض نہیں ہوتا۔'

مگر ان سب ٹویٹس میں جہاں مردوں کا دفاع کرنے کی کوشش کی گئی وہیں اس پر تنقید بھی کی گئی کہ مردوں کی جانب سے ایسے واقعات پر بحث کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

نیہا کپور نے لکھا 'تمام مرد ایک جیسے نہیں؟ یقیناً۔ مگر تمام خواتین، جی ہاں تمام خواتین کو کم از کم ایک بار جنسی ہراس، جنسی حملے اور ان پر آوازیں کسے جانے کے واقعات کا سامنا ہوا ہے۔'

سچن کلباگ نے لکھا کہ 'ایک چیز جو تمام مردوں اور عورتوں کو مشکل وقت میں چاہیے ہوتی ہے وہ ہمدردی ہے اور اس ہیش ٹیگ کے ساتھ مرد اس سے بڑی آسانی سے بچ گئے ہیں۔ اس کی بجائے شاید یہ ہیش ٹیگ بہتر ہوتا ہم برداشت نہیں کریں گے۔'

پرشانت نگم نے لکھا 'ہم مرد سمجھتے ہیں کہ تمام مرد ریپ کرنے والے اور ہراس کرنے والے نہیں ہوتے اور یہ ٹھیک ہے مگر عورت کیوں اس کے نتیجے میں تکلیف اٹھائے؟ یہ سب اب ختم ہونا چاہیے۔'

پریا مینن نے لکھا 'اپنے آپ کو اس ہیش ٹیگ میں چھپا کے بیٹھے رہیں جس دوران خواتین یہ فیصلہ کریں کہ وہ کیسے محفوظ رہیں۔ بہت شکریہ انڈیا۔'