نئے سال پر جنسی حملے، بنگلور میں چھ افراد گرفتار

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش اخلاقی پستی کا ثبوت ہے

انڈیا کے شہر بنگلور میں نئے سال کی تقریبات کے دوران خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں کم از کم چھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مقامی پولیس انسپکٹر ہیمنت نمبالکر کے مطابق آن لائن پر شیئر ہونے والے کئی ویڈیو کلپس دیکھنے کے بعد جن میں خواتین کو ہراساں کیا گیا تھا ان لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

پولیس نے پہلے تو یہ کہہ کر جنسی حملوں کی خبروں کو اتنی اہمیت نہیں دی کہ انھیں کوئی باقاعدہ شکایت نہیں ملی ہے۔

لیکن سی سی ٹی وی فٹیج دیکھنے کے بعد پولیس اہلکاروں نے تسلیم کیا کہ 'ٹھوس شواہد' موجود ہیں۔

سنیچر کا واقعہ شہر کے مصروف مرکزی ڈسٹرکٹ میں پیش آیا تھا جہاں مہاتما گاندھی روڈ اور بریگیڈ روڈ پر دس سے بارہ ہزار نوجوان نئے سال کے استقبال کے لیے جمع تھے۔

سوشل میڈیا پر جنسی ہراس کے ان واقعات پر بہت زیادہ لکھا گیا ہے۔

کئی خواتین نے بتایا کہ ان پر حملہ کرنے سے پہلے مردوں کے ہجوم نے انھیں گھیر رکھا تھا۔ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار دو آدمی ایک راہ چلتی ہوئی لڑکی پر حملہ کرتے ہیں۔

ایک عورت نے اپنا نام پوجا بتاتے ہوئے کہا کہ اس پر ایک بار میں اور پھر ایک دوست سے ملنے کے لیے جاتے ہوئے حملہ ہوا۔

ان کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے اپنی حفاظت کے لیے لڑکیوں کے ایک گروہ کے ساتھ بھی چلنا شروع کیا تو تب بھی لڑکے ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے رہے۔

انھوں نے کہا کہ شکایت درج کرانا اس لیے بھی مشکل تھا کہ 'آپ کو کسی ایک شخص کے بھی چہرے کا پتہ نہیں چل رہا تھا کہ وہ کون ہے جو ایسا کر رہا ہے۔'

'میں نے بہت لاچار محسوس کیا، اگرچہ میرے ہاتھ اور ٹانگیں تھیں اور میں انھیں برا بھلا کہہ سکتی تھی اور مار سکتی تھی، پر میں نے کچھ نہیں کیا۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ کون مجھے چھو رہا ہے اور کون نوچ رہا ہے۔'

ریاست کرناٹکا کے وزیرِ داخلہ جی پرمیشورا کے اس بیان نے کہ نئے سال کی آمد پر جشن کے دوران جو کچھ ہوا اس کی ذمہ داری لڑکیوں کے مغربی طرز کے لباس پر بھی جاتی ہے ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا اور اس کی شدید مذمت کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ نوجوان 'مغرب کی نکل کر رہے، نہ صرف اپنے طرزِ خیال بلکہ لباس میں بھی۔'

ان کے اس بیان پر نیشنل کمیشن فار وومین کی سربراہ للیتا کمارا منگلم نے کہا کہ انھیں ملک کی خواتین سے معافی مانگنی چاہیے اور اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

اسی بارے میں