سابق ایرانی صدر ہاشمی رفسنجانی انتقال کر گئے، تین روزہ قومی سوگ کا اعلان

ایران تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption وہ ایران میں سنہ 1989 سے 1997 تک صدارت کے عہدے پر فائز رہے تھے

ایران کے سابق صدر اور ملک کی نامور سیاسی شخصیت علی اکبر ہاشمی رفسنجانی 82 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ دل کے عارضے میں مبتلا تھے۔

ایران کے سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق اتوار کو تہران کے ہسپتال میں علی اکبر رفسنجانی کو لایا گیا، جہاں وہ انتقال کر گئے۔

ایران کی حکومت نے اُن کے انتقال پر تین دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے اور سابق صدر کی آخری رسومات تہران میں منگل کو ادا کی جائیں گی۔ اس موقع پر عام تعطیل ہو گی۔

٭ رفسنجانی کی ایرانی رہنماؤں پر تنقید

٭ ہاشمی رفسنجانی کا مفاہمتی اقدام

سابق صدر ہاشم رفسنجانی سنہ 1934 میں جنوب مشرقی ایران میں ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔

وہ ایران میں سنہ 1989 سے 1997 تک صدارت کے عہدے پر فائز رہے تھے تاہم سنہ 2005 میں انھیں محمود احمدی نژاد سے شکست ہوئی تھی۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے علی اکبر رفسنجانی سے اختلافات کے باوجود اُن کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے مشکل اور ناقابلِ برداشت قرار دیا۔

آیت اللہ علی خامنہ ای نے علی اکبر رفسنجانی کو ’جد و جہد کا ساتھی‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’بعض اوقات اتنے طویل عرصے میں مختلف آرا اور اُن کے اظہار سے بھی دوستی ختم نہیں ہوئی۔‘

ہاشمی رفسنجانی مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ تھے جس کا کام پالیمان اور شوریٰ نگہبان کے درمیان تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔

اصلاح پسند بن جانے والے انقلابی رہنما رفسنجانی ایرانی انقلاب کے بانیوں میں سے ایک ایسے رہنما ہیں، جنھوں نے مسلسل آٹھ برس تک عراق کی جانب شروع کی جانے والی جنگ کو ختم کروانے کے بعد ملک میں از سر نو تعمیری پروگرام شروع کیا۔

انھیں سال 2013 میں ملک کے 12 ارکان پر مشتمل آئینی ادارے شورئ نگہبان نے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت نہ دیتے ہوئے نااہل قرار دے دیا تھا۔

جس کے بعد انھوں نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے اصلاح پسند امیدوار حسن روحانی کی حمایت کا اعلان کیا۔

سنہ 2005 کی انتخابی شکست کے بعد ہاشمی رفسنجانی صدر کے سخت ترین ناقد بن گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

سنہ 2009 کے انتخابات میں انھوں نے اصلاح پسندوں کا ساتھ دیا تھا تاہم ان انتخابات میں بھی سخت گیر احمدی نژاد دوسری بار صدر بنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

حسن روحانی اور ہاشمی رفسنجانی کا کہنا تھا کہ اُن دونوں کے درمیان گہرے تعلقات ہیں۔

سابق ایرانی صدر کے انتقال کے بعد ایران کے صدر حسن روحانی نے تہران کے ہسپتال میں کا دورہ بھی کیا۔

سابق صدر رفسنجانی کا شمار ان رہنماؤں میں ہوتا تھا جو سیاسی قیدیوں کی آزادی اور آئین کے اندر رہ کر کام کرنے والی سیاسی جماعتوں کو مزید آزادی فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے تھے۔

ہاشمی رفسنجانی کے بچے میں خبروں میں کافی نمایاں رہے۔ اُن کی بیٹی فیضی ہاشمی نے گذشتہ برس بہائی مذہبی اقلیت کے رہنما سے ملاقات کی۔ جنھیں گذشتہ سال ایران کی قیادت نے ملحد قرار دیا ہے۔

اُن کے بیٹے مہدی حسن رفسنجانی کو سنہ 2015 میں مالیاتی جرائم کی وجہ سے قید کی سزا سنائی گئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں