چینی صوبے سنکیانگ کی سرحدی نگرانی بڑھانے پر غور

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چین کے حکام نے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر شمال مغربی علاقے سنکیانگ پر بارڈر کنٹرول مزید سخت کرنے کا حکم دیا ہے۔

منگل کو چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق شنگ جیانگ کے گورنر شہرت ذاکر نے پیر کے روز مرکزی سالانہ سیاسی اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں کہا کہ گذشتہ سال کیے جانے والے اقدامات کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔

* اویغوروں کا اپنے 'وطن' کا خواب

* چین میں مقید اویغور مسلمان رہنما کے لیے انسانی حقوق کا ایوارڈ

* 'ملک بدر کیے گئے اویغور شام اور عراق جا رہے تھے'

واضح رہے کہ سنکیانگ صوبے کی سرحدیں پاکستان سمیت افغانستان اور دیگر چار وسطی ایشیائی ممالک سے ملتی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اویغور شدت پسندوں نے بعض اطلاعات کے مطابق شام میں جاری لڑائی میں شمولیت اختیار کر رکھی ہے اور تھائی لینڈ میں بدھوں کے مندر پر ہونے والے حملے کا الزام بھی انھیں پر لگایا جاتا پے۔

خیال رہے کہ چین کی اویغور اقلیتی برادری کی اکثریت سنکیانگ میں رہائش پذیر ہے اور سنکیانگ کی 45 فیصد آبادی ایغور مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

چین میں دو کروڑ اویغور مسلمان آباد ہیں اور چینی صوبے سنکیانگ سے سینکڑوں اویغور چینی حکام کی جانب سے کارروائیوں سے بچنے کے لیے جنوب مشرقی ایشیا کے راستے ترکی جا رہے ہیں۔

گذشتہ کچھ برسوں کے دوران چین کے حکام نے علاقے میں پر تشدد واقعات کی ذمہ داری ایغور پر عائد کی ہے جبکہ ایغور برادری نے ان واقعات کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

ایک مدت سے شمال مشرقی چین کے اویغور اپنے ملک میں آزادی پر پابندیوں سے تنگ آ کر سرحد پار وسط ایشیا کے پڑوسی ممالک میں جاتے رہے ہیں، لیکن جوں جوں خطے میں چین کا اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے وسط ایشیا میں بھی اویغوروں کے لیے ایک آزاد ملک کی مہم چلانا تقریباّ ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں