قندھار بم حملے میں یو اے ای کے پانچ سفارتکار ہلاک

کابل حملہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں ہونے والے بم حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں اس کے پانچ سفارتکار بھی شامل ہیں۔

صوبائی گورنر کے دفتر کے احاطے میں دیگر ہلاک ہونے والوں میں نائب گورنر، افغانستان کی وزارت خارجہ کے دو اعلیٰ اہلکار اور دو ارکان پارلیمان بھی شامل ہیں۔

حملے میں متحدہ عرب امارات کے سفیر اور قندھار کے گورنر زخمی ہوئے تھے۔

متحدہ عرب امارات میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ منگل کے روز ملک بھر میں ہونے والے دھماکوں جن میں کابل میں ہونے والے دو دھماکے شامل ہیں 60 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا کو جاری کی گئی ایک ای میل میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کا نشانہ افغان انٹیلی جنس ایجنسیاں تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

افغان ذرائع نے بتایا کہ افغانستان کی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی کے مقامی سربراہ ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

افغان وزارتِ صحت کے ایک عہدے دار نے بی بی سی کو بتایا کہ زخمیوں کو استقلال ہسپتال اور دوسرے ہنگامی ہسپتالوں میں لے جایا گیا تھا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی اکثریت عام شہریوں پر مشتمل ہے۔

منگل کو کابل میں افغان پارلیمان کے قریب دہرے دھماکوں میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

خیال رہے کہ یہ حالیہ مہینوں میں کابل میں ہونے والا سب سے مہلک حملہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں