فلپائن میں مانع حمل ادویات مفت تقسیم کرنے کا حکم

فلپائن آبادی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فپائن کی حکومت آئندہ 2022 تک ملک سے تقریبا 13 فیصد تک غربت کا خاتمہ چاہتی ہے

فلپائن میں حکومت نے سرکاری ایجنسیوں کو 60 لاکھ ایسی خواتین کو مانع حمل ادویات اور اشیا مفت تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے جن کو یہ دوائیں آسانی سے نہیں مل پاتیں۔

فلپائن کے صدر رودریگو دوتیرتے کا کہنا ہے کہ وہ خاص طور پر غریب خواتین میں غیر ضروری یا ناپسندیدہ حمل کے کیسز کی تعداد میں ہر ممکن کمی لانا چاہتے ہیں۔

تاہم امکان ہے کہ صدر کے اس حکم کو رومن کیتھولک چرچ کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ملک کے سابق صدر کو اس سے متعلق ایک بل کے لیے برسوں جدوجہد کرنی پڑی تھی جس کا مقصد ملک میں مانع حمل طریقوں کو وسعت دینا تھا۔ لیکن اسقاط حمل کی مخالف تنظیموں کی جانب سے شکایت درج کرانے کے بعد سپریم کورٹ نے مانع حمل امپلانٹ پر پابندی لگا دی تھی۔

پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق فلپائن کی 80 فیصد سے زیادہ آبادی رومن كیتھولک عقیدے کی پیروکار ہے، جس کا عقیدہ ہے کہ مانع حمل ادویات کا استعمال گناہ ہے۔

Image caption امکان ہے کہ صدر کے اس حکم کو رومن کیتھولک چرچ کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق فلپائن میں معاشی امور کی منصوبہ بندی سے متعلق سیکریٹری ایرنسٹو پرینیا کا کہنا ہے کہ ملک سے غربت کے خاتمے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔

حکومت آئندہ 2022 تک غربت میں 13 فیصد کمی لانا چاہتی ہے۔

ایرنسٹو کا کہنا تھا کہ حکومت کی نظر میں مانع حمل کا استعمال زندگی، خواتین، بچوں اور اقتصادی ترقی سب کے لیے بہتر ہے۔

صدر دوتیرتے نے جو حکم جاری کیا ہے اس کی ترجیحات میں 2018 تک ملک کی تقریباً 20 لاکھ غریب خواتین کو مانع حمل اشیا پہنچانا ہے۔

اس سلسلے میں آگہی پھیلانے اور جنسی تعلیم سے متعلق مہم چلانے کے لیے محکمہ تعلیم کو بھی خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

فلپائن کی کی کل آبادی تقریباً دس کروڑ 30 لاکھ ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق فلپائن ایشیا پیسیفک کے علاقے میں واحد ملک ہے جہاں نوعمر لڑکیوں میں حمل کے کیسز میں گذشتہ دو عشروں میں اضافہ ہوا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں