اتر پردیش میں لڑائی باپ بیٹے میں ہے لیکن اس کا اثر قومی سیاست پر پڑسکتا ہے

  • 12 جنوری 2017
ملائم اور اکھیلیش یادو تصویر کے کاپی رائٹ Pti
Image caption روایتی طور پر مسلمان اب سماج وادی پارٹی کی حمایت کرتے ہیں اور اسی وجہ سے باپ بیٹے کی لڑائی اہم ہے

انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش میں اگر حکمراں سماج وادی پارٹی ہار بھی جاتی ہے تب بھی اس کے سرکردہ رہنماؤں کو یہ نہیں سوچنا پڑے گا کہ اب پانچ سال کیا کریں۔

پارٹی کے پاس ایک سپر ہٹ فلم کا مسودہ تیار ہے جس میں مرکزی کردار خود وزیر اعلیٰ اکھیلیش یادو اور ان کے والد اور سابق وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو ادا کر سکتے ہیں۔

دونوں کے درمیان دلیپ کمار اور پرتھوی راج کپور کی ناقابل فراموش فلم مغل اعظم کے انداز میں جنگ جاری ہے۔

صبح کو باپ بیٹے میں سمجھوتہ ہوتا ہے اور شام تک پھر تلواریں کھنچ جاتی ہیں۔ لڑائی پارٹی کے کنٹرول پر ہے، ملائم سنگھ اپنے بھائی شیوپال یادو کا ساتھ دے رہے ہیں اور ان کے کزن رام گوپال وزیر اعلیٰ اکھیلیش یادو کے ساتھ ہیں۔

پارٹی ملائم سنگھ نے بنائی تھی لیکن اب نوجوان اکھیلیش اسے اپنے انداز میں چلانا چاہتے ہیں۔ تقریباً روز دونوں ایک دوسرے کو پارٹی سے نکالتے ہیں، پھر شاید یہ احساس ہوتا ہے کہ پارٹی اگر تقسیم ہو گئی تو دونوں ہی گھر بیٹھ جائیں گے اور گلے شکوے دور کرنے کے لیے پھر وقت ہی وقت ہو گا، اور مصالحت کی کوشش شروع ہو جاتی ہے۔

یہ سلسلہ اب مہینوں سے جاری ہے، لڑائی باپ بیٹے کی ضرور ہے لیکن اس کا براہ راست اثر قومی سیاست پر پڑے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption اگر مسلمان ووٹروں کو یہ لگتا ہے کہ سماج وادی پارٹی بی جے پی کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے تو وہ بہوجن سماج پارٹی کا رخ کر سکتے ہیں

اس کی وجہ یہ ہے کہ ریاست اتر پردیش سیاسی اعتبار سے ملک کی سب سے اہم ریاست مانی جاتی ہے۔ یہاں لوک سبھا کی 80 نشستیں ہیں اور جو بھی اتر پردیش کو کنٹرول کرتا ہے اس کے لیے دلی کا راستہ بہت آسان ہو جاتا ہے۔ سابقہ پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی نے یو پی میں کلین سویب کیا تھا۔

لیکن اب الیکشن ریاستی اسمبلی کے لیے ہے۔ ریاست کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے اور اسمبلی کی 403 میں سے تقریباً 20 فیصد نشستوں پر مسلمان ووٹر فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ یو پی اپنے حجم کی وجہ سے تو اہم ہے ہی لیکن وہاں صرف ترقی کے ایجنڈے پر الیکشن نہیں لڑا جاتا، ریاست میں مسلمانوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے سیکیولرزم بھی ایک بڑا انتخابی موضوع بن جاتا ہے۔

کچھ جماعتوں کو مذہبی تفریق سے فائدہ اٹھانے کے الزام کا سامنا رہتا ہے اور کچھ سیکیولرزم کے تحفظ کے پیلٹ فارم پر انتخابی میدان میں اترتی ہیں۔

اس پس منظر میں ایک طرف بی جے پی ہو گی اور دوسری طرف کانگریس، سماج وادی پارٹی اور مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی۔ روایتاً مسلمان اب سماج وادی پارٹی کی حمایت کرتے ہیں اور اسی وجہ سے باپ بیٹے کی لڑائی اہم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پارٹی ملائم سنگھ نے بنائی تھی لیکن اب نوجوان اکھیلیش یادو اسے اپنے انداز میں چلانا چاہتے ہیں

اگر مسلمان ووٹروں کو یہ لگتا ہے کہ سماج وادی پارٹی بی جے پی کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے تو وہ بہوجن سماج پارٹی کا رخ کر سکتے ہیں۔ سابق وزیرا علیٰ مایاوتی کو اس کا انتظار ہے اور انھوں نے مسلمانوں کو تقریباً سو ٹکٹ دے کر ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو ایک واضح سیاسی پیغام دیا ہے۔

تقریباً 30 سال سے کانگریس ریاست میں اقتدار سے باہر ہے اور فی الحال اس کی کوشش سماج وادی پارٹی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنے کی ہے لیکن باضابطہ طور پر ابھی کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

اگر یہ اتحاد ہن گیا تو ریاست میں سہ رخی مقابلہ ہوگا۔ یہ انتخابی دنگل ہے اور اسے جیتنے کے لیے ظاہر ہے کہ سیاسی جماعتیں جو ممکن ہو گا کریں گی، حالانکہ سپریم کورٹ نے اپنے ایک حالیہ حکم میں کہا ہے کہ ووٹ مانگنے کے لیے مذہب یا ذات برادری کا سہارا نہیں لیا جا سکتا۔

لیکن کچھ رہنما ہیں کہ مانتے کہاں ہیں۔ بی جے پی کے رکن پارلیمان ساکشی مہاراج کو ہی لیجیے۔ پہلے انھوں نے کہا کہ کچھ لوگ چار چار بیویاں رکھتے ہیں اور 40 بچے پیدا کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ بہت سے لوگوں کو لگا کہ یہ مسلمانوں پر حملہ ہے لیکن ساکشی مہاراج کا جواب ہے کہ انھوں نے کسی مذہب کا نام نہیں لیا تھا!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں