سوشل میڈیا انڈین نیم فوجی دستوں کا نیا ہتھیار

تیج بہادر تصویر کے کاپی رائٹ TEJ BAHADUR YADAV
Image caption گذشتہ تقریباً ایک ہفتے میں نیم فوجی دستوں اور فوج کے جوانوں نے کئی ویڈیوز پوسٹ کی ہیں

انڈیا میں کبھی جدید ترین تو کبھی فرسودہ اسلحے سے لیس فوجی اب سوشل میڈیا کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

لیکن کسی دشمن کے خلاف نہیں۔ اچانک فیس بک اور یوٹیوب پر انھیں ان کی آواز مل گئی ہے جو عام طور پر سنی نہیں جاتی اور اسے وہ اپنے حالات زندگی بہتر بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

گذشتہ تقریباً ایک ہفتے میں نیم فوجی دستوں اور فوج کے جوانوں نے کئی ویڈیوز پوسٹ کی ہیں۔ یہ سلسلہ کشمیر میں تعینات بارڈر سکیورٹی فورسز کے ایک جوان تیج بہادر یادو نے شروع کیا تھا جن کا الزام تھا کہ حکومت جو راشن جاری کرتی ہے اسے سینیئر افسران بیچ کھاتے ہیں اور کبھی کبھی جوانوں کو بھوکا بھی سونا پڑتا ہے۔

سینئر افسران نے انہیں شرابی بتایا، ان کے کیریئر ریکارڈ پر سوال اٹھائے لیکن یہ ویڈیو وائرل ہوئیں تو حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بی ایس ایف سے رپورٹ طلب کی۔ اب پی ایم او نے بھی وزارت داخلہ سے رپورٹ مانگی ہے۔

اس کے بعد سی آر پی ایف اور سیما سرکشا بل کے دو جوانوں نے اپنی ویڈیوز میں کہا کہ وہ انتہائی مشکل حالات میں اپنے فرائض انجام دیتے ہیں لیکن انہیں وہ سہولیات نہیں دی جاتیں جو فوج کے جوانوں کو ملتی ہیں حالانکہ ان کی ذمہ داریوں کی نوعیت یکساں ہے۔

فوج کے ایک جوان کا کہنا ہے کہ جوانوں کو 'سہایک' یا اردلی کے طور پر افسران کے ساتھ بھیجا جاتا ہے اور پھر انہیں گھر میں ایک نوکر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جہاں ان سے جوتوں پر پالش تک کروائی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ایک ایسے وقت جب حکومت ملک میں قوم پرستی کو فروغ دے رہی ہے فوجیوں کی یہ حالات حکومت کے لیے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے

حکومت کے لیے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ وہ ملک میں قوم پرستی کو فروغ دے رہی ہے۔

سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد ملک کے سنیما گھروں میں قومی ترانہ بجانا اور اس دوران سب کے لیے کھڑا ہونا لازمی کر دیا گیا ہے، اور ایسے ماحول میں حکومت کے لیے یہ الزامات سیاسی مشکلات کا سبب بن سکتے ہیں کہ ملک کے لیے قربانیاں دینے والے فوجیوں کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے۔

سوشل میڈیا کی طاقت کا حکومت کو بھی اندازہ ہے، خود وزیر اعظم نریندر مودی اس کا بہترین استعمال کرتے ہیں۔ جوانوں کی شکایات کو فیس بک اور ٹوئٹر پر کافی حمایت ملی ہے۔

ایک شخص آدتیہ نہرا نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ 'میں خراب کھانے کے خلاف آواز اٹھانے والے جوان کی حمایت کرتا ہوں۔۔۔ میں آپ کی بہادری کو سلام کرتا ہوں اور قصوروار افراد کو سزا ملنی چاہیے۔'

مینک جین لکھتے ہیں کہ 'جو ہماری حفاظت کرتے ہیں انہیں اچھا کھانا ملنا چاہیے۔'

ٹویٹر اور فیس بک پر زیادہ تر پیغامات اسی نوعیت کے ہیں لیکن نیم فوجی دستوں کے تقریباً نو لاکھ جوانوں کی نوکری کی شرائط میں ترمیم کرنا حکومت کے لیے آسان نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TEJ BAHADUR YADAV
Image caption ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ فوجیوں کس طرح کے جلے ہوئے روکھے پراٹھے کھانے کو دیے جاتے ہیں اور وہ بھی بہت کم مقدار میں جس سے پیٹ نہیں بھرتا ہے

سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل کے درگا پرساد نے جوانوں کی طرف سے سوشل میڈیا کے استعمال پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'سوشل میڈیا کے ذریعہ ان معاملات کو اٹھانا صحیح نہں ہے۔۔۔۔ یہ تو ایسے ہوا کہ آپ کی کوئی مانگ پوری نہ ہو تو آپ سوشل میڈیا پر چلے جائیں، شکایتوں کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال غلط ہے کیونکہ اس کام کے لیے جوانوں کو کئی اور فورم دستیاب ہیں۔'

لیکن انڈیا کے کئی نامور صحافیوں نے ٹوئٹر پر ہی جوانوں کے حق میں آواز اٹھائی ہے۔ شیکھر گپتا کا کہنا ہے کہ 'ہم ان شکایتوں کو نظر انداز کرسکتے ہیں کیونکہ یہ آسان راستہ ہے لیکن سچ یہ ہے کہ ہمارے نیم فوجی دستے، خاص طور پر سی آر پی ایف اور بی ایس ایف گہرے بحران کا شکار ہیں۔'

برکھا دت نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ ’سی آر پی ایف کے صوبیدار رنبیر سنگھ نے مجھ سے کہا کہ وزیر اعظم ڈیجیٹل انڈیا کی بات کرتے ہیں تو پھر جوانوں کو فون رکھنے پر سزا کیوں دی جاتی ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں