تہران: آتشزدگی کے بعد عمارت منہدم، 20 فائر فائیٹرز ہلاک

تہران تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یہ عمارت کسی زمانے میں تہران کی بلند ترین عمارت ہوا کرتی تھی

ایران کے دارالحکومت تہران میں حکام کے مطابق ایک عمارت میں لگنے والی آگ بجھانے کے دوران کم سے کم 20 فائر فائیٹرز ہلاک ہو گئے۔

فائر بریگیڈ عملے کے 200 ارکان نے پلاسکو نامی 17 منزلہ عمارت میں لگنے والی آگ بجھانے کی کئی گھنٹوں تک کوشش کی لیکن عمارت چند ہی منٹوں میں زمین بوس ہو گئی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ایران میں آتشزدگی کے بعد کے مناظر

1962 میں تعمیر ہونے والی یہ عمارت کسی زمانے میں تہران کی بلند ترین عمارت ہوا کرتی تھی اور وہاں شاپنگ سینٹر اور کپڑے تیار کیے جاتے ہیں۔

عمارت میں لگنے والی آگ کی وجوہات کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا تاہم حکام کا کہنا ہے کہ عمارت کے مینجرز کو اس کے ناقص حفاظتی انتظامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق آگ جمعرات کی رات نو بجے لگی۔

ابتدائی تصاور میں عمارت کی اوپر والی منزل سے آگ کے شعلے اور دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ TASNIM NEWS AGENCY REUTERS
Image caption پہلے عمارت کی ایک دیوار گری جس کے بعد پوری عمارت زمین بوس ہو گئئ

ابتدا میں دس فائر فائیٹرز نے آگ بجھانے کا کام شروع کیا۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق جب عمارت کی شمالی دیوار گری تو اس وقت درجنوں فائر فائیٹرز موجود تھے۔

عمارت میں موجود ایک فائر فائیٹر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ' جب آگ لگی تو میں عمارت میں موجود تھا اور اچانک میں نے محسوس کیا کہ عمارت لرز رہی ہے اور گرنے والی ہے۔ میں اور میرے ساتھی عمارت سے باہر نکل آئے اور ایک منٹ بعد عمارت گر گئی۔'

عمارت کے نزدیک ایک دکان کے مالک نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ' یہ سب ایک خوفناک فلم کی طرح کا منظر تھا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امدادی کارکن عملے کے کچھ لوگوں کو ملبے سے نکالنے میں کامیاب رہے

تہران کے میئر محمد باقر کلی باف کے مطابق ریسکیو ورکروں اور سونگھنے والے کتوں کی مدد سے عمارت کے ملبے کی کئی گھنٹوں تک تلاشی لی گئی۔

انھوں نے اس واقعے میں 20 فائر فائیٹرز کے ہلاک ہونے کا اعلان کیا۔

ایک خاتون نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا 'میرے دو بیٹے اور مائی اس عمارت میں کام کرتے تھے اور وہ اب کہاں ہیں مجھے اس بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ابھی یہ واضح نہیں کہ حادثے کے وقت عمارت میں عملے کے کتنے ارکان موجود تھے

پولیس نے عمارت کے نزدیک جمہوری ایونیو کو گھیرے میں لے لیا ہے جہاں پر برطانوی اور ترکی کے سفارت خانے موجود ہیں۔

فائر فائیٹرز ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان جلال مالیکی نے کہا ہے کہ انھوں نے عمارت کے مینجرز کو عمارت کی ناقص حفاظتی انتظامات کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔