تمل ناڈو: روایتی کھیل جلّی کٹّو کے دوران دو افراد کچلے گئے

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جلّی کٹّو کے کھیل میں لوگ گلیوں میں بھاگتے ہوئے بیلوں پر چڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہسپانوی بل فائٹنگ کے برعکس اس کھیل میں شرکا بیل کو قابو کرنے کے لیے کوئی آلہ استعمال نہیں کرتے۔

اطلاعات کے مطابق جنوبی انڈیا میں ’بل ریسلنگ‘ یعنی بیل سے کشتی کے روایتی کھیل جلّی کٹّو میں اتوار کے روز دو افراد کی کچلے جانے سے ہلاکت ہوگئی ہے۔

یاد رہے کہ اس روایتی متنازع کھیل پر سے ایک روز قبل ہی پابندی ہٹائی گئی تھی۔ اس کھیل پر پابندی ملک کی عدالتِ عظمیٰ نے لگائی تھی۔

اس پابندی کے خلاف کئی ہفتوں کے مظاہروں کے بعد حکومت نے اس پر سے پابندی ہٹائی تو جنوبی ریاست تمل ناڈو میں اتوار کے روز جلی کٹو کا میلہ منایا گیا۔

خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کا کہنا ہے کہ اتوار کو پودوکوتائی ضلع کے گاؤں روپسال میں جب اس روایتی کھیل کے تحت بیل بھاگتے ہوئے گلیوں سے گزرے تو دو افراد کچلے گئے اور 28 زخمی ہوگئے ہیں۔

گذشتہ سال جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنی والی تنظیموں کی درخواست پر سپریم کورٹ آف انڈیا نے اس کھیل پر پابندی عائد کر دی تھی۔

تاہم تمل ناڈو کے کچھ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ کھیل ان کی ثقافت اور شناخت کا حصہ ہے۔

ریاستی دارالحکومت چنئی میں گذشتہ ہفتے مظاہروں کے بعد وزیراعظم نریندرار مودی اس بات پر مجبور ہوگئے کہ خصوصی حکم نامے کے تحت عدالت کا فیصلہ تبدیل کر دیں۔

تاہم اس وقت بھی ہزاروں لوگوں نے پابندی کے خلاف مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہیں وہ یہ تہوار منانے سے انکار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق ریاست کے وزیراعلیٰ کہہ چکے ہیں کہ پیر کو شروع ہونے والے ریاستی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں اس حکم نامے کو قانون بنا دیا جائے گا۔

جلّی کٹّو کے کھیل میں لوگ گلیوں میں بھاگتے ہوئے بیلوں پر چڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہسپانوی بل فائٹنگ کے برعکس اس کھیل میں شرکا بیل کو قابو کرنے کے لیے کوئی آلہ استعمال نہیں کرتے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ بیلوں کے کھانے میں شراب ملائی جاتی ہے تاکہ ان کے قدم مستحکم نہ رہیں اور گیٹ سے نکالتے ہیں ان کی آنکھوں میں مرچیں پھینکی جاتی ہے تاکہ وہ تکلیف اور پریشانی میں تیزی سے بھاگیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں