انڈیا: تمل ناڈو اسمبلی میں جلّی کٹّو کی اجازت کا بل منظور

'جلّی کٹّو'
Image caption 'جلّی کٹّو' پر پابندی کے خلاف کئی روز سے پرتشدد مظاہرے جاری ہیں

انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کی اسمبلی نے سانڈ کے مقابلے کے متنازع کھیل 'جلّی کٹّو' کی اجازت دینے کا بل منظور کیا ہے۔

ریاستی اسمبلی میں 'جلّی کٹّو' کھیل کو اجازت دینے کا بل اس کھیل کے حق میں کئی روز سے جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد منظور کیا گیا ہے۔

انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے رپوسل میں یہ کھیل دو سال بعد منعقد کیا گیا تھا کیونکہ عدالت عظمی نے سنہ 2014 میں اس پر پابندی لگا دی تھی۔

لیکن سنیچر کو حکومت نے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کے بعد اس کھیل سے عارضی طور پر پابندی ہٹا لی تھی۔

* جلّی کٹّو پر پابندی کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج

* اے ار رحمان جلّی کٹّو کے لیے روزہ رکھیں گے

پولیس نے مظاہرے کے مقامات کو خالی کرانا شروع کر دیا ہے لیکن ہمارے نمائندے کے مطابق ابھی بھی تقریباً پانچ ہزار افراد چینئی کے ساحل مرینا پر موجود ہیں اور وہ جگہ خالی کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جنوبی ریاست تمل ناڈو میں اس کھیل کا فصل کی کٹائی کے تہوار کے ایک حصے کے طور پر روایتا بڑے دھوم دھام سے انعقاد کیا جاتا رہا ہے

انھوں نے بتایا کہ پولیس نے اس علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور ساحل کو جانے والی تمام سڑکوں کو بند کر دیا گيا ہے۔

ریلوے حکام نے اتوار کو 19 مسافر ٹرین کو مظاہرین کے پٹریوں پر لیٹ کر مظاہرہ کرنے کے خوف سے رد کردیا۔

بہر حال تمل ناڈو کے مختلف شہروں میں اتوار کو اس کھیل کا انعقاد کیا گیا جہاں انھیں دیکھنے کے لیے تماشائیوں کی بھیڑ امڈ آئی تھی۔

ریاست میں غصے میں بپھرے ہوئے سانڈ کو قابو میں کرنے والے اس کھیل کا فصل کی کٹائی کے تہوار کے ایک حصے کے طور پر روایتا بڑے دھوم دھام سے انعقاد کیا جاتا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس روایتی کھیل کے حامیوں کا خیال ہے کہ اس سے دیسی نسل کے سانڈ کا تحفظ بھی ہوتا ہے

لیکن عدالت نے ’جلّی کٹّو‘ کو جانوروں پر ظلم کہتے ہوئے کالعدم قرار دیا تھا۔

جانوروں کے حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ جب سانڈ کو انسانوں کے درمیان چھوڑا جاتا ہے تو اس پر شدید دباؤ ہوتا ہے اور پھر اسے خود پر سواری کرنے والے شخص سے بچنا بھی ہوتا ہے۔

بہر حال تمل ناڈو میں بہت سے لوگ اس پابندی کے خلاف ہیں اور وہ اسے اپنی ثقافت کے ایک اہم حصے کے طور پر دیکھتے ہیں. ان کی دلیل یہ ہے کہ اس سے دیسی قسم کے سانڈ کا تحفظ بھی ہوتا ہے۔

حالیہ دنوں میں ریاست کے دارالحکومت چینئی (مدراس) میں بڑے پیمانے پر پابندی کے خلاف مظاہرے ہوئے اور اسے از سر نو پوری طرح قانونی قرار دیے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

وزیر اعلی او پنیرسلوم سمیت ریاست کے بیشتر وزیر جلّی کٹّو کی حمایت کرتے ہیں یہاں تک کہ آسکر انعام سے سرفراز موسیقار اے آر رحمان بھی اس کے حامی ہیں۔

اسی بارے میں