انڈیا: کشمیر میں برفانی تودے گرنے سے دس فوجی ہلاک

کشمیر برف تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فوج کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں کل دو مختلف مقامات پر برفانی تودے گرنے کے واقعات پیش آئے اور فوج کا ایک کیمپ اور ایک گشتی پارٹی ان کی زد میں آگئے

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے گریز سیکٹر میں برفانی تودوں کے نیچے دب جانے سے کم سے کم دس فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق دس لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں کل دو مختلف مقامات پر برفانی تودے گرنے کے واقعات پیش آئے اور فوج کا ایک کیمپ اور ایک گشتی پارٹی ان کی زد میں آگئے۔

علاقے میں کئی دنوں سے بھاری برف باری جاری ہے۔ گریز میں چار عام شہریوں کے ہلاک ہونے کی بھی خبر ہے۔

بدھ کو وسطی کشمیر کے گاندربل ضلع میں بھی برفانی تودے کی زد میں آنے سے فوج کے ایک میجر کی موت ہوگئی تھی۔ کشمیر کے کئی علاقوں میں بھاری برفباری جاری ہے اور سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے برفانی تودے گرنے کے مزید واقعات پیش آسکتے ہیں۔

فوج کے مطابق انتہائی خراب موسم کے باوجود فوراً امدادی کام شروع کر دیا گیا اور برفانی تودے کی زد میں آنے والے کیمپ سے ایک جونیئر کمیشنڈ افسر اور چھ فوجیوں کو زندہ باہر نکال لیا گیا۔ لیکن اس حادثے میں تین فوجی ہلاک ہوگئے جن کی لاشیں جعمرات کی صبح برآمد ہوئیں۔

دوسرا واقعہ بھی اسی علاقے میں پیش آیا۔ اس وقت گشتی پارٹی اپنی پوسٹ کی طرف لوٹ رہی تھی۔ فوج کے مطابق خراب موسم کے باوجود بچاؤ کا کام جاری ہے 'اور اب تک تین لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں۔'

خبر رساں اداروں کے مطابق فوج کے ایک اہلکار کا کہنا کہ ابھی کئی فوجی لاپتہ ہیں لیکن ابھی ان کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے فوج کے اہلکاروں کو تیزی سے بچاؤ کی کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔

گریز سیکٹر لائن آف کنٹرول کے قریب باندی پورہ ضلع میں واقع ہے۔

متعلقہ عنوانات