پریانکا،کانگریس کی ڈوبتی نیّا کا سہارا؟

پریانکا گاندھی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کانگریس پارٹی نے سنہ 1947 میں آزادی کے بعد سے انڈیا پر سب سے لمبے عرصے تک حکومت کی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں وہ تیزی سے زوال کا شکار ہوئی ہے۔

اب جب کہ اترپردیش جیسی اہم ریاست میں چند ہی ہفتوں بعد انتخابات ہونے والے ہیں، انڈیا کی ’بزرگ‘ سیاسی جماعت نے مقامی سماج وادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا ہے جو اس وقت وہاں حکومت کر رہی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اتحاد کے پیچھے پریانکا گاندھی ہیں جو پارٹی کے رہنما راہل گاندھی کی بہن ہیں۔

'خاندانی گڑھ'

پارٹی میں بہت سے لوگ کئی برسوں سے کہہ رہے ہیں کہ پریانکا کا سیاسی کردار بڑھایا جائے، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ان کی مذاکرات کرنے کی صلاحیت کو پارٹی نے کھلے عام تسلیم کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پریانکا گاندھی پچھلے 16 برس سے اپنی والدہ سونیا گاندھی کی مدد کر رہی ہیں

اتر پردیش کے رائے بریلی ضلعے میں، جسے کانگریس کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، پریانکا کو خاصی مقبولیت حاصل ہے۔ پارٹی کے 43 سالہ رکن بھورے لال کہتے ہیں: ’اگر انڈیا میں کوئی کانگریس پارٹی میں نئی جان ڈال سکتا ہے تو وہ پریانکا ہیں۔‘

رائے بریلی سے سونیا گاندھی کانگریس کی امیدوار ہیں، جو جماعت کی سربراہ اور سابق وزیرِاعظم راجیو گاندھی کی بیوہ ہیں۔

گاندھی خاندان کو ان پسماندہ علاقوں کے باسیوں میں خاصی مقبولیت حاصل ہے اور یہیں سے اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کئی بار منتخب ہوئے ہیں۔

سنہ 2014 کے انتخابات میں بھی اطالوی نژاد سونیا یہاں سے جیتی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کانگریس پارٹی کے بہت سے حامی چاہتے ہیں کہ اب قیادت کی باگ ڈور پریانکا کو سنبھال لینی چاہیے

تاہم حالیہ برسوں میں کانگریس کو متعدد سیاستی دھچکوں کا سامنا رہا ہے۔ سنہ 2014 کے انتخابات میں اس کی نشستیں 206 سے گھٹ کر صرف 44 رہ گئیں، اور وہ آسام، کیرالا اور مغربی بنگال ریاست جیسی کلیدی ریاستوں میں شکست سے دوچار ہوئی۔

یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے اندر سے مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ پریانکا کو سامنے لایا جائے، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اپنے بھائی سے زیادہ مقبول ہیں۔

لیکن 44 سالہ دو بچوں کی ماں مرکزی سٹیج پر آنے سے ہچکچا رہی ہیں اور ابھی تک انھوں نے صرف کانگریس کے گڑھ اترپردیش ہی پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔

خاندان کی قربانیاں

راہل گاندھی سنہ 2004 کے بعد سے امیٹھی سے انتخابات میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ یہاں پریانکا گاندھی خاصے عرصے سے سرگرم ہیں۔

سنہ 2014 کے انتخابات میں انھوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ان کے بھائی راہل یہاں سے جیت جائیں، حالانکہ وہ دوسرے علاقوں میں مہم چلانے میں مصروف تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پریانکا نے ابھی تک سیاسی عزائم کا اظہار نہیں کیا اور وہ ہمیشہ اپنے بھائی راہل کی حمایت کرتی رہی ہیں

امیٹھی میں کانگریس کے حامی لال بہادر خان کہتے ہیں: ’اگر پریانکا نہ ہوتیں تو راہل یہاں سے ہار جاتے۔ جب پریانکا نے دیکھا کہ ان کے بھائی مقبولیت کھو رہے ہیں تو پریانکا نے یہاں زیادہ وقت دینا شروع کر دیا، اور لوگوں کو یاد دلاتی رہیں کہ ان کے خاندان نے ملک کے لیے کیا قربانیاں دی ہیں۔ راہل جیتے تو سہی لیکن ان کی فتح کا مارجن زیادہ بڑا نہیں تھا، اور یہ بات خجالت آمیز تھی۔'

جن لوگوں نے پریانکا کے ساتھ کام کیا ہے وہ ان کی لوگوں سے رابطہ کرنے کی صلاحیت کے معترف ہیں۔

امیٹھی سے تعلق رکھنے والے رکنِ پارلیمان سنجے سنگھ کہتے ہیں: ’ان کا سب سے بڑا اثاثہ ان کا لوگوں سے فوری تعلق بنا لینا اور ان کی رواں ہندی زبان ہے۔ وہ لوگوں کو محسوس کرواتی ہیں جیسے وہ اپنے کسی پڑوسی سے بات کر رہے ہیں۔‘

اس سے قبل پریانکا نے کسی قسم کے سیاسی عزائم کا اظہار نہیں کیا تھا اور ہمیشہ اپنے بھائی کی حمایت کرتی رہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ VINAY DWIVEDI
Image caption امیٹھی اور رائے بریلی کے لوگوں میں پریانکا بہت مقبول ہیں

بچوں کی ماں

پریانکا نے آؤٹ لک میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا: ’میں نہیں سمجھتی کہ اگر میں عملی سیاست میں آ جاؤں تو خاموش گھریلو زندگی گزارنے کے قابل رہوں گی۔ جب میں اپنے بھائی یا ماں کے حلقوں میں ان کی مدد نہیں کر رہی ہوتی تو میں اپنے دو بچوں کے لیے کپ کیک بنا رہی ہوتی ہوں اور ان کے لیے چیزیں خرید رہی ہوتی ہوں۔‘

اس کے باوجود بہت سے لوگوں کا اصرار ہے کہ وہ سیاست سے باہر رہیں گی۔

ان کے خاوند رابرٹ وادرا ماضی میں عندیہ دے چکے ہیں کہ انھیں اپنی اہلیہ کے سیاست میں آنے پر اعتراض نہیں ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پریانکا گاندھی کے شوہر رابرٹ وادرا پر بدعنوانی کے الزامات ہیں

خوشامدیوں کا ٹولہ

وادرا پر الزام ہے کہ انھوں نے ہریانہ اور راجستھان میں جائیداد کے کاروبار میں بدعنوانی کی ہے۔ تاہم وہ اس سے انکار کرتے ہیں۔

البتہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کانگریس پارٹی کا زوال روکنے کے لیے تنہا پریانکا کافی نہیں ہوں گی۔ انھیں شبہ ہے کہ آیا ان کے پاس مطلوبہ سیاسی بصیرت موجود ہے۔

کانگریس کے مقامی کارکن رام سیوک چوہدری کہتے ہیں کہ پریانکا اس وقت لڑکھڑاتی ہوئی پارٹی کا بہترین سہارا ہو سکتی ہیں لیکن 'ان کے اردگرد خوشامدیوں کا ٹولہ اکٹھا ہو گیا ہے۔

’جب ہم 2014 کا الیکشن ہارے تو انھوں نے مجھ سے شکست کی وجوہات پوچھی تھیں۔ میں نے انھیں صاف بتا دیا کہ اصل وجہ جماعت کی طرف سے خراب امیدواروں کا انتخاب ہے۔ وہ اس پر برہم ہو گئیں اور اگلے ماہ مجھے مقامی تنظیمی امور سے نکال باہر کر دیا گیا۔‘

دیر آید درست آید

ناقدین کا کہنا ہے کہ کانگریس اتنی تیزی سے پیچھے ہٹ رہی ہے کہ اسے جلد ہی پریانکا کو سامنے لانا پڑے گا ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔

اس تمام تر بحث مباحثے کے درمیان ایک چھوٹی سی لڑکی کی تجربات بھی ہیں جس نے اپنی دادی اور والد دونوں کو والد کو قتل ہوتے دیکھا تھا۔

سیاسی تجزیہ کار رشید قدوائی کا خیال ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ گاندھی خاندان کے دوسرے افراد سے زیادہ لوگوں کو میدان میں اکٹھا کر سکتی ہیں، پریانکا کے لیے سیاست میں شمولیت ایک جذباتی فیصلہ ہو گا۔

’سونیا گاندھی کی عمر بڑھ رہی ہے اور یہ واضح ہے کہ وہ قیادت راہل گاندھی کو سونپنا چاہتی ہیں، لیکن راہل کچھ زیادہ پرتیقن نہیں لگتے۔ اگرچہ پریانکا نے گاندھی خاندان کے مضبوط قلعوں میں انتہائی زبردست کارکردگی نہیں دکھائی، لیکن کون کہہ سکتا ہے۔۔۔ سیاست میں دیر آید درست آید ہوتا ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں