نصف صدی سے انڈیا میں پھنسا چینی فوجی

1963 میں انڈیا اور چین کے درمیان ہونے والی جنگ کے چند ہی ہفتوں بعد، چینی فوج کے ایک سرویئر وینگ قوئی سرحد پار کر کے انڈیا میں داخل ہوئے تو انہیںحراست میں لے لیا گیا۔ تقریباً 54 سال بعد بھی وہ واپس چین نہیں جا سکے ہیں۔ بی بی سی ہندی کے نامہ نگار ونیت کھارے نے ان سے ملاقات کی۔

Image caption چینی فوج کے ایک سرویئر وینگ قوئی 1963 میں انڈیا کی سرحد پار کر جانے کے بعد اپنے وطن واپس نہیں لوٹ سکے ہیں

گاؤں ترودی کا قریب ترین ہوائی اڈہ تقریباً پانچ گھنٹے کی ڈرائیو کے فاصلے پر ناگپور میں ہے۔ میں یہاں وینگ قوئی سے ملنے آیا ہوں جو چینی فوج میں ایک سرویئر تھے۔ 1963 میں انڈیا کی سرحد پار کر جانے کے بعد وہ اپنے وطن واپس نہیں لوٹ سکے ہیں۔

ثہ پانچ دہائیوں سے انڈیا میں پھنسے ہیں اور اپنے گھر والوں سے ملنے کو ترس رہے ہیں۔

وینگ قوئی کی عمر اب 80 سے زیادہ ہے۔ ہم نے 3000 کلومیٹر دور ان کے خاندان والوں کے ساتھ ویڈیو کال کرنے کی کوشش کی۔ اس کوشش کے لیے ہمیں قریبی سرکاری دفتر جانا پڑا جو کہ علاقے میں واحد جگہ ہے جہاں یہ سہولت موجود ہے۔

میرے کال ملانے کے دوران ان کی بے صبری عیاں تھی اور جیسے ہی ان کے 82 سالہ بھائی وینگ ژویوان کی ویڈیو سامنے آئی تو ان کی آنکھیں چمک اٹھیں۔

دونوں بھائی ایک دوسرے کو 50 سال سے زیادہ عرصے کے بعد دیکھ رہے تھے۔ چینی زبان میں ان کی گفتگو 17 منٹ تک جاری رہی۔

وینگ قوئی کہنے لگے ’مجھ سے تو وہ پہچانا ہی نہیں جا رہا تھا۔ وہ بہت بوڑھا لگ رہا تھا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ وہ صرف میرے لیے زندہ ہے۔‘

Image caption وینگ قوئی کا انڈین خاندان

وینگ قوئی کا انڈین نام راج بہادر ہے اور ان کے انڈیا میں پیدا ہونے والے تین پوتے پوتیاں ان کے ساتھ بیٹھے تھے۔ وہ شانجی صوبے میں پیدا ہوئے تھے اور ان کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ 1960 میں انھوں نے چینی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میرا کام چینی فوج کے لیے سڑکیں بنانا تھا‘ اور وہ ’غلطی سے‘ جنوری 1963 میں انڈین حدود میں داخل ہوگئے تھے۔

Image caption وینگ قوئی نے 1975 میں 'دوستوں کے اصرار پر' ایک مقامی لڑکی سے شادی کر لی۔

’میں اپنے کیمپ سے باہر چہل قدمی کے لیے نکلا تھا مگر میں گم ہوگیا۔ میں تھکا ہوا اور بھوکا تھا۔ میں نے ریڈ کراس کی ایک گاڑی دیکھی اور ان سے مدد مانگی۔ انھوں نے مجھے انڈین فوج کے حوالے کر دیا۔‘

انڈین حکام کا کہنا ہے کہ وینگ قوئی انڈیا میں گھسے اور انھوں نے حکام کو اپنے بارے میں غلط معلومات دیں۔

اگلے سات سال تک وہ مختلف جیلوں میں قید رہے اور 1969 میں عدالت نے انھیں رہا کر دیا۔

پولیس انھیں وسطی ریاست مدھیا پردیش کے ایک دور دراز گاؤں ترودی لے گئی اور انھیں آج تک ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں ملی۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ کیا وینگ قوئی جنگی قیدی ہیں یا نہیں۔ تاہم انھیں انڈین شہریت یا دیگر دستاویزات دینے سے انکار کیا گیا ہے۔ ان کی ملک چھوڑنے کی درخواست بھی رد کر دی گئی ہے۔ ان کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ وینگ قوئی کو ملک چھوڑنے کے لیے دستاویزات کی ضرورت ہے۔

مقامی اہلکار بھارت یادوو اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وینگ کے کیس میں کوتاہی اور غیر دلچسپی دکھائی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’وینگ کے کردار کے بارے میں کوئی شک و شبہات نہیں ہیں۔ اگر وہ واپس جانا چاہتے ہیں تو ہم ان کی مدد کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

2013 میں وینگ کو پاسپورٹ حاصل کرنے میں مدد کرنے والے چینی سفارتخانے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ انھیں اس معاملے کا علم ہے اور انڈیا کی وفاقی وزارتِ داخلہ سے اس سلسلے میں جواب کا انتظار ہے۔

وینگ قوئی کے لیے یہ ایک تکلیف دہ انتظار رہا ہے۔ زبان، خوراک اور انتہائی مختلف ثقافت، انھیں ان تمام چیزوں کو اپنانا پڑا۔

وہ کہتے ہیں ’میں نے ایک آٹے کی مل میں کام کرنا شروع کیا۔ مگر میں رات کو اپنے گھر والوں کی یاد میں روتا تھا۔ یہی سوچتا تھا کہ میں نے خود کو کہاں پھنسا لیا ہے۔‘

وینگ قوئی نے 1975 میں ’دوستوں کے اصرار پر‘ ایک مقامی لڑکی سے شادی کر لی۔ اس موقع پر ان کی بیوی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’میں اپنے والدین سے بہت ناراض تھی کہ انھوں نے میری ایک غیر ملکی سے شادی کردی۔ مجھے اس کی زبان سمجھنے میں مشکل ہوتی تھی۔ کچھ ماہ تک تو اسے برداشت کیا۔ پھر اس کی عادت ہوگئی۔‘

وینگ قوئی نے اپنا کاروبار شروع کرنے کی کوشش تو کی مگر ان کی غیر واضح قانونی حیثیت کی وجہ سے پولیس کے چکر لگتے رہتے تھے۔ ان کا ایک پڑوسی بتاتا ہے کہ رشوت نہ دینے پر انھیں مقامی پولیس نے مارا بھی بہت ہے۔

Image caption وینگ قوئی کی عمر اب 80 برس سے زیادہ ہے۔

وینگ چین میں اپنے گھر والوں کو خطوط تو لکھتے رہے مگر انھیں پہلی مرتبہ جواب 1980 کی دہائی میں ملا۔ خاندان کی تصاویر کا تبادلہ ہوا۔ سنہ 2002 میں 40 برس میں پہلی بار ان کی اپنی والدہ سے فون پر بات ہوئی۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کی والدہ کا کہنا تھا کہ چونکہ میرے آخری ایام قریب ہیں تو میں تمھیں دیکھنا چاہتی ہوں۔ ’میں نے ہر بااثر شخص کو خطوط لکھے مگر کچھ نہ ہوا‘۔

سنہ 2006 میں ان کی والدہ انتقال کرگئیں۔ 2009 میں ان کا ایک بھتیجا انڈیا میں بحیثیت سیاح آیا اسی کی مدد سے انھیں پاسپورٹ کے لیے دستاویزات ملے۔

یہ اب تک واضح نہیں کہ آیا قوئی کبھی چین جا سکیں گے یا نہیں اور اگر چلے گئے تو کیا کبھی واپں انڈیا آنا چاہیں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میری فیملی یہاں ہے، میں کہا جا سکتا ہوں؟‘

لیکن ان کی بیوی کو فکر ہے اور وہ کہتی ہیں کہ ’میں امید کرتی ہوں کہ وا واپس آئیں گے‘۔

Image caption وینگ قوئی کا چینی خاندان
Image caption وینگ قوئی کا انڈین خاندان

اسی بارے میں