’کارروائی ہوگی تو پاکستان کی سنجیدگی کا پتا چلے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ SAJJAD HUSSAIN
Image caption انڈیا کے ایک تجزیہ کار قمر آغا کا کہنا ہے کہ پاکستان اگر واقعی سنجیدہ ہے تو اسے حافظ سعید کو باضابطہ طور پر گرفتار کرنا چاہیے اور ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلانا چاہیے۔

انڈیا کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جب تک پاکستان صحیح معنوں میں شدت پسند عناصر کے خلاف کارروائی نہیں کرتا تب تک یہ یقین کرنا مشکل ہوگا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف واقعی سنجیدہ ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ’پاکستان نے حافظ سعید کو پہلے بھی اسی طرح نظر بند کیا تھا۔ ممبئی حملے کے اصل ملزم اور پاکستان کی سرزمین سے انڈیا میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے والی تنظیموں کے خلاف صحیح معنی میں سخت کارروائی سے یہ ثابت ہو گا کہ پاکستان دہشت گردی پر قابو پانے میں واقعی سنجیدہ ہے۔‘

انڈیا کے داخلی امور کے وزیرِ مملکت کرن ریجیجو نے کہا کہ انڈیا نے پاکستان پر مسلسل دباؤ ڈالا ہوا ہے۔ ’ہم دنیا کو بتاتے رہے ہیں کہ پاکستان نے صرف حافظ سعید کو ہی نہیں بلکہ دوسرے دہشت گردوں کو بھی پناہ دے رکھی ہے۔ اگر پاکستان پر ہر طرف سے دباؤ پڑے گا تو وہ ان عناصر کے خلاف صحیح معنی میں کارروائی کرنے کے لیے مجبور ہو گا۔‘

ممبئی حملے کے مقدمے میں حکموت کی نمائندگی کرنے والے سرکاری وکیل اجول نکم نے بھی پاکستان کے اس اقدام پر شک کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا ’میرا خیال ہے کہ پاکستان نے یہ قدم امریکہ کی نئی حکومت کو گمراہ کرنے کے لیے اٹھایا ہے، جس نے شدت پسندی کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔‘

انڈیا کے ایک تجزیہ کار قمر آغا کا کہنا ہے کہ پاکستان اگر واقعی سنجیدہ ہے تو اسے حافظ سعید کو باضابطہ طور پر گرفتار کرنا چاہیے اور ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلانا چاہیے۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان گذشتہ تین برس سے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ انڈین حکومت مبئی حملے کے سلسلے میں حافظ سعید کے خلاف کاوررائی کا ایک عرصے سے مطالبہ کرتی رہی ہے۔

اس دوران گذشتہ ہفتے انڈیا نے تین برس میں پہلی بار دلی میں پاکستان کے ہائی کمیشن میں پاکستان کے دفاعی مشیر کو یوم جمہوریہ کی تقریبات میں مدعو کیا تھا۔ آخری بار اس طرح کی دعوت 2014 میں دی گئی تھی۔

اسی بارے میں