انڈیا کے دفاعی بجٹ میں دس فیصد اضافے کا اعلان

ارون جیٹلی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انڈیا کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے بدھ کو پارلیمان میں بجٹ پیش کیا

انڈیا کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے بدھ کو پارلیمنٹ میں عام بجٹ پیش کرتے ہوئے دفاع کے شعبے میں دس فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔

وزیر خزانہ نے انڈیا کا 214 کھرب 70 ارب کا مجموعی بجٹ پیش کیا۔

بجٹ پیش کرتے ہوئے انھوں نے نوٹ بندی کے فیصلے کو حکومت کا ’جرات مندانہ اور دلیرانہ‘ قدم قرار دیا تاہم انھوں نے یہ تسلیم کیا کہ قلیل مدت تک اس کے جزوی اثرات نظر آسکتے ہیں۔

وزیر اعظم نے بجٹ کو سراہتے ہوئے اسے نئی نسل کا مستقبل قرار دیا جبکہ ان سے قبل حزب اختلاف کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے اس ’مایوس کن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں نوجوانوں کی نوکریوں کے بارے میں کچھ نہیں ہے جبکہ کسانوں کے لیے بھی سوائے لفاظی کے کچھ نہیں ہے۔

اس بار حکومت نے دفاعی بجٹ میں دس فیصد کے اضافے کا اعلان کرتے ہوئے اس کے لیے دو لاکھ 74 ہزار کروڑ روپے مختص کیے۔ خيال رہے کہ اس رقم میں پینشن کی 86 ہزار کروڑ رقم شامل نہیں ہے۔

کسانوں کے قرض کے لیے دس لاکھ کروڑ روپے مختص کیے گئے اور حکومت کا کہنا کہ اس سکیم کے تحت وہ آئندہ پانچ برسوں میں کسانوں کی آمدنی دوگنا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کاشتکاروں کے لیے قرضوں میں سود کی شرح بھی کم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پہلی بار ریل بجٹ عام بجٹ کا حصہ رہا

حکومت نے ٹیکس میں بھی رعایت کا اعلان کیا ہے اور ڈھائی لاکھ سے پانچ لاکھ کے درمیان ٹیکس کو دس فیصد سے کم کر کے پانچ فیصد کر دیا گیا ہے جبکہ 50 لاکھ سے ایک کروڑ کے درمیان والی آمدن پر 10 فیصد سرچارج عائد کیا گيا ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ گذشتہ مالی سال میں صرف 3.7 کروڑ لوگوں نے ٹیکس ریٹرن داخل کیے تھے اور صرف 76 لاکھ لوگ ایسے تھے جنھوں نے 10 لاکھ سے زیادہ آمدن ظاہر کی جبکہ غیر ملک کی سیر و سیاحت کو جانے والوں کی تعداد دو کروڑ تھی۔

نوٹ بندی کی وجہ سے زیادہ ٹیکس جمع ہوا ہے، اتنا ٹیکس پہلے کبھی جمع نہیں ہوا۔

ارون جیٹلی نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت نے افراط زر کی شرح پر قابو پایا ہے اور معاشی ترقی کی رفتار کو مستحکم کیا گيا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت کا ارادہ دیہی علاقوں میں زیادہ خرچ کرنا ہے تاکہ غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام ہوسکے اور اس کے تحت ایک کروڑ دیہی خاندانوں کو غربت سے نکالنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ مختلف وزارتوں کے ماتحت خواتین اور بچوں کی فلاح و بہود کے لیے ایک کروڑ 84 ہزار 632 کروڑ روپے مختص کیا گيا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption راہل گاندھی نے بجٹ کو مایوس کن قرار دیا

بجٹ میں ’کوالٹی تعلیم‘ پر زور دیتے ہوئے کئی نئی سکیموں کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے تحت سائنس کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کی بات کی گئی ہے۔

حکومت نے شعبۂ صحت کے لیے بعض اہم اعلانات کیے ہیں اور کہا ہے کہ 2025 تک ملک سے ٹی بی کے مرض کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ حکومت نے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے طرز پر ریاست گجرات اور جھارکھنڈ میں دو نئے ہسپتال تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سے پہلے بجٹ پیش کرتے ہوئے ارون جیٹلی نے کہا کہ ’نوٹ بندی‘ ایک جرات مندانہ فیصلہ تھا جو عوامی مفاد میں لیا گیا تھا۔ اب ہماری مجموعی ملکی پیداوار واضح، ایماندار اور بڑی ہو جائے گی۔'

انھوں نے کہا کہ نوٹ بندی کا ’معیشت پر معمولی اور قلیل مدتی اثر پڑے گا، بینک اب زیادہ قرض فراہم کرسکیں گے اور معاشرے کے ہر طبقے کی ترقی ہو سکے گی۔‘

دہلی سے ہمارے نامہ نگار شکیل اختر کا کہنا ہے کہ ہر چند کہ نوٹ بندی کے حوالے سے بات کی گئی لیکن اس کے متعلق کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں