شوہر نے اپنی بیوی کے دونوں کان کاٹ دیے

افغانستان کے شمالی صوبے بلخ میں گھریلو تشدد کا نشانہ بننے والی ایک 23 سالہ خاتون نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کیسے ان کے شوہر نے انھیں باندھ کر ان کے دونوں کان کاٹ دیے۔

زرینہ نامی خاتون کی حالت اب خطرے سے باہر ہے لیکن وہ ہسپتال میں شدید صدمے کی حالت میں زیر علاج ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے کوئی گناہ نہیں کیا، مجھے نہیں معلوم کہ میرے شوہر نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا۔‘

پولیس نے اس حوالے سے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ اس خاتون کے شوہر اس حملے کے بعد سے کشندہ ضلعے میں مفرور ہیں۔

زرینہ نے پژواک نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ان کے شوہر نے انھیں جگایا اور پھر بلااشتعال ان پر حملہ کر دیا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ان کی شادی 13 سال کی عمر میں کر دی گئی تھی اور ان کے اپنے شوہر کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں تھے۔‘

اپنے ایک اور انٹرویو میں زرینہ نے ٹولو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر نے انھیں ان کے والدین سے ملنے سے روک رکھا تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ اب اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ بہت شک کرنے والا شخص ہے اور جب بھی میں اپنے والدین سے ملنے جاتی تھی تو وہ اکثر مجھ پر غیر مردوں کے ساتھ باتیں کرنے کے الزامات لگاتا تھا۔‘

زرینہ نے اپنے شوہر کی فوری گرفتاری اور مقدمے کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ افغان حکومت کئی بار گھریلو تشدد سے خواتین کو محفوظ رکھنے کے لیے قوانین متعارف کروانے کی کوشش کر چکی ہے۔

تاہم صدر حامد کرزئی اپنے دور اقتدار کے دوران ان قوانین پر دونوں ایوانوں کی منظوری کے باجود دستخط کرنے میں ناکام رہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں