کشمیر: لداخ کے دو دیہات میں 70 سال بعد بجلی

تصویر کے کاپی رائٹ PARAS LOOMBA
Image caption گاؤں میں لائٹ جلنے سے ماحول بہت خوشگوار ہوگيا ہے اور لوگ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے

انڈيا کے زیر انتظام کشمیر کے لداخ ڈویژن کے گاؤں مقلب اور ٹكٹك میں کچھ دن پہلے ہی بجلی پہنچائی گئی ہے جس سے مقامی باشندے بہت خوش ہیں۔

گاؤں میں لائٹ آنے سے ماحول بہت خوشگوار ہوگيا ہے اور لوگ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے۔

مقلب گاؤں کے دورجے ننیل اپنی زندگی کی نصف صدی گزار چکے ہیں لیکن بجلی نہیں دیکھی تھی۔ اب جب بجلی آئی اور پھر اس کی وجہ سے گاؤں میں ٹیلی ویژن چلنے لگا تو اس سے وہ بہت خوش ہیں۔

دورجے کہتے ہیں: 'بچپن سے ہم نے بجلی نہیں دیکھی تھی۔ ہمیں تو ایک طرح سے نئی زندگی ملی ہے۔ ہم ابھی تک لالٹین جلا کر کام چلایا کرتے تھے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ DURBOOK TASHI YANKZEE
Image caption مقلب گاؤں آزادی سے پہلے بھی آباد تھا۔ اس گاؤں نو خاندان رہتے ہیں جبکہ ٹكٹك میں تین خاندان آباد ہیں

اسی گاؤں کے 17 سالہ تنزیل نوشتيل ایک طالب علم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'اب ہم رات کو دیر تک پڑھ سکتے ہیں۔ پہلے بہت تکلیف ہوتی تھی۔ جب ہم دوسرے شہروں میں جاتے تھے تو وہاں ہر طرف بجلی کی چمک دھمک ہوتی تھی۔ ٹیلی ویژن پر نیوز دیکھتے تھے۔ لیکن اپنے گاؤں لوٹتے تھے تو یہاں کچھ نہیں ہوتا تھا۔'

تنزیل نوشتيل اکثر اپنے ماں باپ سے اس بارے میں پوچھتے تھے: 'ہمارے ماں باپ کہتے تھے کہ ہر بار انتخابات میں رہنما بجلی لانے کا وعدہ کرتے رہے ہیں لیکن ایسا کبھی ہوا نہیں تھا۔ امید رہتی تھی کہ اس سال ووٹ دیا ہے تو دوسرے سال لائٹ آجائے گی۔'

مقلب میں صرف ایک سرکاری مڈل سکول ہے اور ہیلتھ سینٹر قریب سات کلومیٹر دور ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PARAS LOOMBA
Image caption مقلب لداخ کا دور دراز کا گاؤں ہے

مقلب گاؤں آزادی سے پہلے بھی آباد تھا۔ اس گاؤںمیں نو خاندان رہتے ہیں جبکہ ٹكٹك میں تین خاندان آباد ہیں۔

'گلوبل ہمالیائی ایکسپریس' نامی ایک کمپنی نے مقلب اور ٹكٹك میں بجلي مہیا کرنے کا کام کیا ہے۔

کمپنی کے ایک سینیئر افسر پرس لوںبا نے بتایا: 'ہم ایسے کاموں کے لیے حکومت سے مدد نہیں لیتے۔ ہم ان لوگوں سے سپانسرشپ لیتے ہیں جو ایسی مدد کرنا چاہتے ہیں۔'

انھوں نے بتایا کہ اس علاقے میں سولر پاور کی مدد سے بجلی مہیا کی گئی ہے۔ ابھی ان گاؤں میں یہ بجلی صرف 12 گھنٹے تک ہی رہتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں