افغانستان اور پاکستان میں برفباری سے 100 سے زیادہ ہلاکتیں

برفباری تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption چترال میں سڑک سے برف ہٹانے کا کام جاری ہے

شدید برفباری اور برفانی تودے گرنے سے افغانستان اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں ایک سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

سب سے مہلک واقعے میں افغانستان کے ضلع چترال سے ملحق صوبے نورستان میں ایک گاؤں کے برفانی تودے کی زد میں آنے سے 53 افراد ہلاک ہو گئے۔

اس کے علاوہ پاکستان کے ضلع چترال میں بھی ایک گاؤں پر برفانی تودہ آ گرا جس سے دس افراد مارے گئے۔

چترال میں برفانی تودے گرنے سے کم از کم 10 افراد ہلاک

دونوں ملکوں میں برف باری سے درجنوں مکانات تباہ ہو گئے ہیں اور مواصلات کا سلسلہ درہم برہم ہو گیا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق لوگ برف میں پھنسی گاڑیوں میں بیٹھے بیٹھے سردی سے جم کر ہلاک ہو گئے۔

کابل شہر کے شمالی علاقے میں بھی برفانی تودے گرے۔

افغانستان کے قدرتی آفات کے محکمے کے ایک ترجمان نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو نورستان صوبے کے علاقے برگ متال کے بارے میں بتایا: 'برفانی تودوں نے دو گاؤں مکمل طور پر ڈھک دیے ہیں۔'

قریبی صوبہ بدخشان بھی بدترین برفباری سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔

امدادی کارکنوں کو خراب موسم اور مسدود سڑکوں کی وجہ سے برف میں پھنسے متاثرہ لوگوں تک پہنچنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

صوبائی کونسل کے رکن خلیل اللہ غیور نے بی بی سی افغان سروس کو بتایا کہ اس علاقے میں متاثرہ لوگوں کی تلاش اور امدادی سامان کی ترسیل کے لیے دو ہیلی کاپٹر استعمال کیے جائیں گے۔

کابل کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی رن وے پر برف کی وجہ سے بند کر دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغانستان میں شدید برفباری سے سینکڑوں گاڑیاں پھنس کر رہ گئیں

گاڑی کے اندر منجمد

پولیس اور فوجیوں نے کابل قندہار شاہراہ پر پھنسی ہوئی ڈھائی سو گاڑیوں میں موجود لوگوں کو نکالا۔

مقامی پولیس کے سربراہ رجب سالانگی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ کابل کے شمال میں واقع درہ سالانگ سات فٹ برف پڑنے کی وجہ سے بند ہو گیا ہے۔

برف میں دھنسے کم از کم دو ڈرائیور سردی کی وجہ سے اپنی گاڑیوں کے اندر منجمد ہو کر ہلاک ہو گئے۔ خدشہ ہے کہ مختلف جگہوں میں منعدد افراد اب بھی بغیر خوراک کے پھنسے ہوئے ہیں۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید برف گر سکتی ہے۔

راستے مسدود، رابطے منقطع

اس سال گلگت بلتستان میں شدید برف باری ہوئی ہے اور کئی دیہی علاقوں کے راستے مسدود ہونے کی وجہ سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ ملگ کے دیگر شہروں سے بھی زمینی رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے سکردو شہر اور گلگت شہر کے کارباری مراکز بھی ویران نظر ارہے ہیں اور

بلتستان کی تحصیل گلتری کے سیاسی و سماجی شخص و سابق یونین کونسل کے چیئرمین حسن سردار نے صحافی موسیٰ چلونکھا کو بتایا کہ گلتری میں کم از کم پانچ سے چھ ہزار کی آبادی ہے جو باقی دنیا سے کٹ کر رہ گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہاں کے باسیوں کو اشیائے خورد و نوش اور دوسری اشیائے ضرورت کی قلت کا سامنا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں