انڈیا میں’59 کوبرا کمانڈوز ٹریننگ کے بعد غائب'

کوبرا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا میں ماؤ نوازوں سے لڑنے کے لیے سپیشل تربیت یافتہ دستے تیار کیے گئے ہیں

انڈیا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے 59 انتہائی تربیت یافتہ کمانڈوز 'نظم و ضبط کی خلاف ورزی' کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوسٹنگ کی بجائے اپنے گھر چلے گئے ہیں۔

روزنامہ انڈین ایکسپریس کے مطابق سرینگر میں اپنی ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد سی آر پی ایف کے نکسلیوں کا مقابلہ کرنے والے دستے 'کوبرا' کے 59 كمانڈو بیچ راستے میں ٹرین سے اتر کر اپنے گھر چلے گئے ہیں۔

٭ فوجی جوان کی ویڈیو اور بی ایس ایف کا نوٹس

٭ ’سٹرائیکس کی بجائے بھوکی فوج کا پیٹ بھرو'

اخبار کے مطابق کوبرا یونٹ کے ان جوانوں کو انڈیا کی شمال مشرقی ریاست بہار کے نکسلزم (ماؤ نواز) سے متاثرہ علاقے میں اپنی پہلی پوسٹنگ پر جانا تھا اور انھیں گیا میں سات فروری کو رپورٹ کرنا تھا۔

ان 'ٹرینی كمانڈوز' کی جانب سے حکم عدولی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد اب ان کے خلاف تحقیقات کے احکام دیے گئے ہیں۔

انڈین افواج میں 'نظم و ضبط کی کمی' اور 'خراب لیڈرشپ' کی پہلے بھی شکایات ہوتی رہی ہیں اور اس کے سبب فوجیوں میں حکم عدولی نظر آئی ہے یہاں تک کہ خودکشی کے بھی واقعات پیش آئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ماؤ نواز انڈیا کی شمال مشرقی ریاستوں میں زیادہ سرگرم عمل ہیں

انڈین حکومت کے مطابق سنہ 2001 سے مئی 2012 تک 1300 سے زیادہ فوجیوں نے خودکشی کی تھی اور انھوں نے اس کا سبب 'تناؤ' اور 'ذاتی اور گھریلو مسائل' قرار دیے تھے۔

جبکہ گذشتہ پانچ برسوں میں ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً 600 فوجیوں نے خودکشی کی ہے اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فوجیوں کی موت شدت پسندوں اور عسکریت پسندوں سے لڑنے کے مقابلے 'اندرونی عفریت' سے لڑنے میں زیادہ ہوتی ہے۔

حال ہی میں بارڈر سکیورٹی فورسز کے ایک جوان تیج بہادر نے کھانے پینے کی قلت اور اعلیٰ افسروں کی شکایت سے پر ایک ویڈیو جاری کی تھی جو کہ وائرل ہو گئی تھی اور اس کے بعد جانچ کے حکم دیے گئے تھے۔

بہر حال سی آر پی ایف کے حوالے سے بتایا گيا ہے کہ تازہ تازہ تربیت یافتہ 300 کمانڈوز کے دستے کو پانچ فروری کو سری نگر سے روانہ ہونا تھا اور انھیں سات فروری کو جوائن کرنا تھا۔ لیکن برف سے ڈھکے راستے کے جلد کھل جانے کے سبب یہ یکم فروری کو ہی جموں پہنچ گئے اور وہاں سے بہار کے لیے روانہ ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سی آر پی ایف کے 300 جوانوں کی ماؤ نواز باغیوں سے لڑنے کے لیے ٹریننگ سری نگر میں ہوئی تھی۔

انھیں ریاست اترپردیش کے اہم سٹیشن مغل سرائے سے دوسری ٹرین لینی تھی لیکن ان میں سے 59 ٹرینی كمانڈوز آگے کے سفر پر بہار نہیں گئے بلکہ انھوں نے اجتماعی یا ذاتی طور پر فیصلہ کرتے ہوئے اپنے گھر یا اپنی پسند کی دوسری جگہ کی راہ لی۔

اخبار کے مطابق سی آر پی ایف کے انسپکٹر جنرل آر کے سنگھ نے کہا:'یہ فرائض میں کوتاہی برتنے کا معاملہ ہے نہ کہ فوج کو چھوڑنے کا۔ ہم ان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ واپس آئیں گے اور اپنی ڈیوٹی وقت پر جوائن کریں گے۔ لیکن اس کے لیے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔'

سنہ 2016 کے دسمبر میں انڈیا کی سپریم کورٹ نے سکیورٹی فورسز میں نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں کو سنجیدگی سے لینے کا کہا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں