انڈیا: ’راجستھان کی حکومت تاریخی نصاب بدلنے کی کوشش کر رہی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ RAJIV LOCHAN
Image caption بر صغیر کی عہد وسطی کی جو تاریخ ہے اس سے متعلق اب تک تمام مستند تاریخی کتابوں میں یہی درج ہے کہ اس جنگ میں اکبر کی فوج نے رانا پرتاپ کو شکست دی تھی

انڈیا کی ریاست راجستھان میں یونیورسٹی سطح کی تاریخ کی کتابوں کو تبدیلی کرنے کا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے جس میں یہ پڑھایا جائے گا کہ ہلدی گھاٹی کی جنگ میں مغل بادشاہ اکبر کو شکست اور رانا پرتاپ کی فتح ہوئی تھی۔

بر صغیر کی تاریخ سے متعلق اب تک تمام مستند تاریخی کتابوں میں یہی درج ہے کہ اس جنگ میں اکبر کی فوج نے رانا پرتاپ کو شکست دی تھی۔

لیکن انڈيا کے معروف انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق راجستھان میں یونیورسٹی سطح پر پڑھائی جانے والی تاریخ کی کتابوں میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔

اخبار کے مطابق ریاست کی وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے سندھیا کی حکومت میں شامل تین وزرا نے اس تجویز کی حمایت کی ہے جس کے تحت تاریخ کے حقائق بدلنے کا منصوبہ ہے۔

اس تجویز کے مطابق اب طالب علموں کو یہ پڑھایا جائے گا کہ ہلدی گھاٹی کی لڑائی میں پرتاپ نے مان سنگھ کی قیادت میں لڑنے والی اکبر کی فوج کو شکست دی تھی۔

تاریخ کی کتابوں کے مطابق 1576 میں ہلدی گھاٹی میں ہونے والی جنگ کے بعد راجپوت راجہ مہارانا پرتاپ پہاڑوں کی طرف چلے گئے تھے۔ بعد میں اکبر نے فوج کی خود کمان سنبھالی اور اس خطے کے بیشتر علاقوں پر قبضہ حاصل کر لیا تھا۔

Image caption راجستھان میں بعض سخت گیر ہندو انتہا پسندوں نے فلم ' پداماوتی کے سیٹ پر حملہ کیا تھا اور مار پیٹ کی تھی

انڈین ایکسپریس نے ریاستی وزیر کالی چرن سراف کا ایک اقتباس نقل کیا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ اکبر تو باہر سے آنے والا ایک حملہ آور تھا اور حقیقت میں یہ جنگ رانا پرتاپ نے جیتی تھی۔

کالی چرن کا کہنا ہے کہ نسل در نسل مسخ شدہ تاریخ پڑھائی جاتی رہی ہے اور اگر اب اس کو درست کیا جاتا ہے اور یہ بتایا جائے کہ 'اصل میں اس جنگ کے فاتح رانا پرتاپ تھے تو اس میں برائی کیا ہے؟'

لیکن نامور مورخ تنوجا کوٹھیال کا کہنا ہے کہ ہلدی گھاٹی کی جنگ کا یہ نتیجہ نکالنا نا صرف تاریخ کی توہین ہے بلکہ یہ پورے تعلیمی عمل کی توہین ہے۔

انھوں نے اخبار کو بتایا: 'اکبر نے رانا پرتاپ کو شکست دی یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ لیکن مقامی لوگوں کے احساسات اور خیالات اس بارے میں کچھ مختلف ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ لیکن اس کے باوجود لوگوں کے احساسات کا خیال رکھنے کے لیے تاریخی حقائق تو نہیں بدلے جا سکتے۔ 'یہ تاریخ اور تعلیم دونوں ہی کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوں گے۔'

چند دن پہلے ہی کی بات ہے راجستھان میں بعض سخت گیر ہندو انتہا پسندوں نے فلم 'پداماوتی کے سیٹ پر حملہ کیا تھا اور مار پیٹ کی تھی۔

ان کا الزام تھا کہ اس فلم میں یہ دکھانے کی کوشش کی جار رہی ہے کہ رانی پدماوتی کو دلی کے سلطان علاءالدین خلجی سے محبت تھی جبکہ یہ راجپوتوں کے خیال کے برعکس ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں