انڈیا: ’برساتی پہن کر نہانے کا فن تو کوئی منموہن صاحب سے سیکھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر اعظم نریندر مودی نے بدعنوانی کے حوالے سے کانگریس پر جم کر تنقید کی اور سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ پر بھی نکتہ چینی کی

انڈیا کے وزیر ا‏عظم نریندر مودی نے پارلیمان میں بحث کے دوران منموہن سنگھ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ رین کوٹ یعنی برساتی پہن کر نہانے کا فن تو کوئی ڈاکٹر صاحب سے سیکھے۔

ان کے اس بیان پر کافی ہنگامہ آرائی ہوئی اور احتجاجاً کانگریس پارٹی نے ایوان کا بائیکاٹ کیا۔

ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے بدعنوانی کے حوالے سے کانگریس پر جم کر تنقید کی اور سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ پر بھی نکتہ چینی کی۔

مودی نے کہا کہ ان کے دور اقتدار میں اتنی کرپشن ہوئی لیکن ان پر ایک داغ تک نہیں لگا۔ انھوں نے کہا 'باتھ روم میں رین کوٹ پہن کر نہانے کا فن تو کوئی ڈاکٹر صاحب سے سیکھے۔'

کانگریس پارٹی اس بیان سے اتنا برہم ہوئی کہ اس نے مودی سے معذرت کرنے کو کہا اور پھر ایوان سے بائیکاٹ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PIB
Image caption نرسمہا راؤ نے منموہن سنگھ کو وزیر خزانہ کا عہدے پر مقرر کیا تھا

یہ تو بدھ کے روز ہونے والا ایک ہنگامہ تھا تاہم منموہن سنگھ کے نہانے کا ذکر 12 برس قبل نیوز ویک کے ایک مضمون میں ہوا تھا۔ اس میں اس بات کا ذکر تو نہیں تھا کہ وہ برساتی پہن کر نہاتے تھے یا نہیں لیکن یہ ضرور لکھا تھا کہ وہ کس طرح اور کیسے نہاتے تھے۔

نیوز ویک کے ایڈیٹر فرید زکریا نے 2004 میں اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ معروف ماہر اقتصادیات جگدیش بھگوتی اپنے کلاس فیلو منموہن سنگھ کے بارے میں یہ کہا کرتے ہیں: 'ہم دونوں کیمبرج یونیورسٹی میں ساتھ پڑھتے تھے، اور مجھے ایک غریب کسان خاندان سے انے والے اس نوجوان کی بات چھو گئی جو ہر صبح چار بجے ٹھنڈے پانی سے نہاتا تھا ۔۔۔ انگلینڈ کی اس سردی میں!'

بھگوتی کہتے ہیں: 'مجھے تبھی محسوس ہوا تھا کہ یہ کسی مقام پر ضرور پہنچے گا۔'

1956-57 میں کیمبرج یونیورسٹی میں اپنے ہم جماعت کے بارے میں کی گئی جگدیش بھگوتی کی یہ پیشن گوئی کچھ حد تک درست ثابت ہوئی۔

کیمبرج سے واپس آنے پر منموہن سنگھ نے پہلے پنجاب یونیورسٹی میں درس و تدریس کی خدمات انجام دیں، پھر ڈی فل کے لیے آکسفرڈ یونیورسٹی گئے۔ وزارت خزانہ میں سیکرٹری مقرر ہوئے، منصوبہ بندی کمیشن میں رہے، 1982 میں ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر مقرر ہوئے، منصوبہ بندی کمیشن کے نائب صدر کا عہدہ سنبھالا، وی پی سنگھ کی حکومت میں وزیر اعظم کے اقتصادی امور کے مشیر رہے، یو جی سی کے چیئرمین تعینات ہوئے اور پھر ان کے سیاسی سفر کاآغاز ہوا۔

1991 میں پی وی نرسمہا راؤ نے انہیں اپنی حکومت میں وزیر خزانہ کا عہدہ دینے کا فیصلہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption منموہن سنگھ 1991 سے 1996 تک بھارت کے وزیر خزانہ رہے۔ اور بالآخر 2004 میں انڈیا کے وزیر اعظم بنے

اس دن کو یاد کرتے ہوئے منموہن سنگھ نے بی بی سی کے سابق صحافی سر مارک ٹلی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا: 'وہ جس دن اپنی کابینہ تشکیل دے رہے تھے، انھوں نے اپنے پرنسپل سیکریٹری کو میرے پاس بھیجا جس نے مجھے سے کہا ۔۔۔ وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ آپ وزیر خزانہ بن جائیں۔ میں نے سوچا وہ ایسے ہی بطور مذاق کہہ رہے ہیں۔

’اگلے روز وہ میرے پاس پھر آئے، بلکہ تھوڑا غصہ بھی تھے۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ میں تیار ہو جاؤں اور حلف لینے کے لیے صدارتی محل چلوں۔ اور کچھ اس طرح سے سیاست میں میرا داخلہ ہوا۔'

منموہن سنگھ 1991 سے 1996 تک بھارت کے وزیر خزانہ رہے۔ اور بالآخر 2004 میں انڈیا کے وزیر اعظم بنے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں