کیا انڈیا میں ریپ کے جھوٹے دعوے ایک مسئلہ ہیں؟

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ MANSI THAPLIYAL

سنہ 2012 میں دہلی کی ایک بس میں ایک طالبہ سے بدنامِ زمانہ گینگ ریپ یا اجتماعی جنسی زیادتی کے بعد انڈیا بھر میں پولیس کے پاس رپورٹ ہونے والے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

تاہم ایک سروے کے مطابق سنہ 2013 اور 2014 میں نصف سے زیادہ ایسی رپورٹیں جھوٹی تھیں۔ اس سے مرد کارکنوں کے ان دعوؤں کو تقویت ملی جن کا موقف ہے کہ خواتین مردوں سے رقم بٹورنے کے لیے ریپ کے الزامات لگاتی ہیں۔

یوگیش گپتا کو ہمیشہ سے یقین تھا کہ ان کے پاس خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے کافی شواہد ہیں۔ البتہ پولیس کو یہ باور کروانا ایک اور بات تھی۔

* خواتین کے جنسی اظہار پر خاموشی ٹوٹ رہی ہے؟

* ’سارے مرد ایک جیسے نہیں ہوتے؟‘

برس کے یوگیش دہلی میں جائیداد کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔ ان کی مشکلات کا آغاز اس وقت ہوا جب انھوں نے ایک ملازم کو مالی خرد برد میں ملوث پایا اور پولیس کے پاس جانے کی دھمکی دی۔

اس ملازم نے ایک عورت کو مجبور کیا کہ وہ مکان خریدنے کے بہانے یوگیش گپتا کے پاس جائے۔ اس عورت نے بعد میں ان سے میٹرو سٹیشن تک لفٹ مانگی۔ بعد میں اس نے الزام لگایا کہ یوگیش نے اسے ایک خالی اپارٹمنٹ میں لے جا کر ریپ کیا۔

انھوں نے کہا: ’شکر ہے کہ میرے دفتر میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ دو ہزار بارہ میں ایک طالبہ سے اجتماعی جنسی زیادتی اور قتل کے بعد دلی میں شدید مظاہرے ہوئے تھے

’اسے سیڑھیوں سے چوتھی منزل پر واقع فلیٹ میں لے جانے، باہر آنے اور پھر میٹرو سٹیشن پر چھوڑنے میں کم سے کم 37 سے 40 منٹ لگتے۔‘

’میں یہ ثابت کر سکتا تھا کہ میں 11 منٹ کے اندر دفتر واپس آ چکا تھا۔‘

مگر جب اس عورت نے پولیس کو رپورٹ کی تو یوگیش کو پتہ چلا کہ پولیس کو شواہد سے زیادہ انھیں مجرم ثابت کرنے میں دلچسپی تھی۔

وہ کہتے ہیں: ’میری بات سننے کو کوئی تیار ہی نہ تھا۔ پولیس نے مجھ سے بات تک نہیں کی۔ میں نے پوری کوشش کی مگر انصاف نہیں ملا۔‘

اگلے ماہ آٹھ تک پولیس کی تفتیش جاری رہی اور یوگیش کو لوگوں کی چبھتی نظروں کا سامنا کرنا پڑا۔

وہ کہتے ہیں: ’میری بیوی، بچوں، والد اور بھائی کو جس اذیت سے گزرنا پڑا، میں اسے بیان نہیں کر سکتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ MANSI THAPLIYAL
Image caption وکیل وینے شرما کہتے ہیں کہ وہ جھوٹے الزامات کا شکار موکلوں کا دفاع کرتے ہیں

جب مقدمہ عدالت میں گیا تو اس عورت نے اعتراف کیا کہ اس کے تمام الزامات من گھڑت تھے، اور یوگیش کو باعزت طور پر بری کر دیا گیا۔ مگر خاصا نقصان تو پہلے ہی ہو چکا تھا۔

یوگیش کا کہنا ہے کہ وہ اس چیز کا شکار ہوئے جسے مردوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے بعض کارکن سنہ 2012 کے دہلی گینگ ریپ کیس سے جوڑتے ہیں اور ایسے جھوٹے الزامات بڑھتا ہوا مسئلہ ہیں۔

اس واقعے کے بعد جنسی تشدد کے واقعات کے پولیس کے پاس اندراج میں سو فی صد سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ابتدائی طور پر اسے ایک مثبت پیشرفت کے طور پر دیکھا گیا۔

تاہم 2014 میں دہلی کمیشن فار ویمن کی رپورٹ میں کہا گیا کہ شہر میں گذشتہ برس لگائے جانے والے تریپن الزامات جھوٹ پر منبی تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دلی گینگ ریپکے بعد جنسی تشدد کے واقعات کے پولیس کے پاس اندراج میں سو فی صد سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا

یوگیش کے وکیل وینے شرما کا کہنا ہے کہ رپورٹ ہونے والے تمام کیسز میں صرف ایک فی صد ہی سچے ہوتے ہیں۔ ’باقی تمام یا تو انتقام لینے کے لیے درج کیے جاتے ہیں یا پھر مالی فائدہ اٹھانے کے لیے۔‘

مردوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن پارتھا سیڈوکھان اس بات سے متفق ہیں۔ ’حقیقت یہ ہے کہ پہلے ریپ کا سدِباب کرنے کے لیے ملک میں سخت قوانین اور سزائیں موجود تھیں۔ اب ریپ کی تعریف بدل گئی ہے اور کسی بھی بات کو ریپ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔‘

یوگیش جس کرب سے گزرے ہیں اس کے بعد وہ کہتے ہیں کہ: ’بری ہونے کے بعد وہ انسان اپنی حیثیت بحال نہیں کر پاتا۔ آپ اپنی بے گناہی ہر شخص کے سامنے نہیں ثابت کر سکتے۔ ریپ کے معاملے میں لوگ فوراً نتیجہ اخذ کر لیتے ہیں یہ جانے بغیر کے آیا وہ شخص واقعی مجرم ہے بھی یا نہیں۔‘

اسی بارے میں