انڈیا: ’جاسوس کبوتر جانباز خان‘ فرار ہونے میں کامیاب

پولیس کبوتر کے پنجڑے کے ساتھ تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption پاکستان سے متصل سرحدی علاقوں میں جب بھی کو مشتبہہ پرندہ نظر آتا ہے تو حکام اسے پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں

انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل کو ملکی حدود میں داخل ہونے کے بعد پکڑا جانے والا مبینہ پاکستانی جاسوس کبوتر پولیس کی لاپرواہی کے نتیجے میں فرار ہونے میں کامیاب رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق راجستھان پولیس کا ایک اہلکار کبوتر کے معائنے کے لیے اسے پنجرے سے باہر نکالنے کی کوشش کر رہا تھے تاہم جیسے ہی پنجرا کھلا کبوتر اُڑ گیا۔

اس کبوتر کو پولیس نے ضلع سری گنگا نگر کے علاقے میں تقریباً دو گھنٹے کی محنت کے بعد بڑی مشکل سے قید کیا تھا۔

سکرول نامی ایک ویب سائٹ نے ٹریبیون کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایک ہیڈ کانسٹیبل نے جب پنجرا کھولا تو اس کی لاپرواہی کے سبب کبوتر بھاگ نکلنے میں کامیاب رہا۔

پولیس نے اس کبوتر کے بارے میں انٹیلیجنس ایجینسیوں کو بھی مطلع کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس کبوتر پر 5547 نمبر کے ساتھ جانباز خان کا ایک ٹیگ لگا تھا اور اس پر ایک فون نمبر بھی لکھا ہوا تھا۔

کہا جارہا ہے کہ جونھی کبوتر اڑا، حکام نے اس بارے میں الرٹ جاری کیا لیکن عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کبوتر اڑتے ہوئے پاکستان کی جانب نکل گیا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پنجاب یا راجستھان کے سکیورٹی حکام نے پاکستان کی طرف سے آنے والے کبوتروں کو جاسوس سمجھ کر پکڑا ہو۔

گذشتہ اکتوبر کے مہینے میں بھی لائن آف کنٹرول پر ایسے ہی ایک کبوتر کی آمد پر الرٹ جاری کیا گيا تھا۔ بعد میں اسے پکڑا گيا اور بتایا گیا تھا کہ کبوتر جو پیغام لایا تھا اس میں نریندر مودی کو دھمکیاں دی گئی تھیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں