اترپردیش میں پہلے مرحلے میں 63 فیصد ووٹ ڈالے گئے

مایاوتی، نریندر مودی اور اکھیلیش یادو تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption بی جے پی کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کو ہی ریاست کا چہرہ بنایا گیا ہے

انڈیا میں پانچ ریاستوں میں جاری اسمبلی انتخابات میں اترپردیش میں پہلے مرحلے میں تقریبا 63 فیصد لوگوں نے اپنے ووٹ کے حق کا استعمال کیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق باغپت میں 54 فیصد، میرٹھ میں 52 فیصد، متھرا میں 53، فیروز آباد 53.8 فیصد، آگرہ 56.08 فیصد اور مظفرنگر میں 54 فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے.

ہفتہ کو ہونے والے ان انتخابات میں 15 اضلاع کی 73 اسمبلی نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔

اس مرحلے میں ریاست کے ڈھائی کروڑ سے زیادہ افراد ووٹ دینے کے اہل تھے۔ ریاست میں صبح سات بجے ووٹ ڈالنے کا عمل شروع ہوا اور یہ شام پانچ بجے تک جاری رہا۔

اس سے قبل چار فروری کو دو ریاستوں پنجاب اور گوا میں ووٹ ڈالے جا چکے ہیں جبکہ نتائج کا اعلان 11 مارچ کو ایک ساتھ ہوگا۔

٭ انڈیا انتخابات: پنجاب اور گوا میں ووٹنگ مکمل

٭ انڈیا: پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا اعلان

انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں سات مرحلوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے اور پہلے مرحلے کے لیے دہلی سے ملحق مغربی علاقوں کے 15 اضلاع میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔

اس مرحلے میں 403 مجموعی سیٹوں میں سے 73 نششتوں کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں جن میں فرقہ وارانہ کشیدگی والے علاقے کیرانہ، مظفر نگر اور دادری وغیرہ شامل ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ہی اترپردیش کی سیاست میں مزید شدت آئے گی کیونکہ نریندر مودی کی حکومت کے لیے یہ اب تک کا سب سے بڑا امتحان ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اترپردیش میں کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے اتحاد کو مقبولیت حاصل ہے لیکن انتخابات میں کامیابی بہت آسان نظر نہیں آتی

الیکشن کمیشن کے مطابق 96،906 لوگوں کی شناخت میں انتشار پھیلانے والے لوگوں کے طور پر کی گئی اور ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔

پہلے مرحلے کی پولنگ میں 3،888 ڈیجیٹل اور ویڈیو کیمروں کا بھی استعمال کیا گیا۔

سنہ 2014 کے عام انتخابات میں بی جے پی نے یہاں کی 80 لوک سبھا (پارلیمانی) سیٹوں میں سے 71 پرکامیابی حاصل کی تھی جبکہ ریاست میں سماجوادی پارٹی کی حکومت تھی۔

اترپردیش ملک کے رجحان کو طے کرنے میں اہم کردار نبھاتا رہا ہے۔ ایک جانب کانگریس اور سماجوادی پارٹی کا اتحاد ہے تو دوسری جانب سابق وزیر اعلی مایاوتی کی قیادت والی پس ماندہ طبقے کی اہم پارٹی بہوجن سماج پارٹی ہے جبکہ بی جے پی اپنی ساکھ بچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔

اس مرحلے میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے بیٹے پنکج سنگھ پہلی بار انتخابات لڑ رہے ہیں اور انھیں نوئیڈا میں سماجوادی پارٹی کے سنیل چودھری سے سخت مقابلہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption اتر پردیش میں پہلے مرحلے سے قبل انتخابی جلسے کا ایک منظر

اس کے علاوہ مظفر نگر میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات سے سرخیوں میں آنے والے سنگیت سوم سردھنا سے میدان میں اور ان کے خلاف سماجوادی پارٹی نے اپنے خاص آدمی اتل پردھان کو اتارا ہے۔

ویسے اس مرحلے میں بی جے پی رہنما حکم سنگھ نے اپنی بیٹی کو میدان میں اتارا ہے۔ حکم سنگھ نے یہ الزام لگایا تھا کہ کیرانہ سے ہندو نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں اور ایک فہرست جاری کی تھی لیکن بعض چینلوں نے ان کے ان الزامات پر تفتیش کی اور انھیں بے بنیاد قرار دیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں