کشمیر: ’فورسز اور عسکریت پسندوں کے تصادم‘ میں آٹھ افراد ہلاک

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سکیورٹی فورسز اب بھی فریسال نامی گاؤں کا گھیراؤ کیے ہوئے ہیں جو کہ سری نگر سے 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کو مبینہ عسکریت پسندوں اور فوجی اہلکاروں کے درمیان شدید لڑائی کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں چار مبینہ عسکریت پسند، دو فوجی اہلکار اور ایک شہری ہلاک ہوا ہے۔ اس واقعے کے بعد جمع ہونے والے مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے ایک اور شخص مارا گیا۔

٭کشمیر کی ہڑتال اور حُرّیت کا تذبذب

٭’کشمیر پاکستان اور انڈیا کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے‘

پولیس انسپیکٹر جنرل سید جاوید مجتبیٰ گیلانی کا کہنا ہے کہ فائرنگ اس وقت شروع ہوئی جب پولیس اور سپاہیوں نے ضلع کلگام کے علاقے فریسال کے ایک گاؤں کے میں گھر میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر اس کا گھیراؤ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں نے سکیورٹی حصار توڑنے کے لیےخودکار بندوقیں استعمال کیں جس کے بعد پولیس نے جوابی کارروائی کی۔

انڈین فوج کا کہنا ہے کہ اس کے تین سپاہی زخمی ہوئے ہیں جبکہ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ حکومتی فوج نے ایک گھر کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔

پولیس نے دھماکے سے تباہ ہونے والے گھر کے ملبے سے ایک نوجوان شہری کی لاش بھی برآمد کی ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ گھر کے مالک کا بیٹا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والا آٹھوں شخص اس گھر کا مالک تھا۔ جبکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین عسکریت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

جب اس واقعے کی خبر پھیلی تو سینکڑوں مقامی لوگوں نے وہاں جمع ہو کر احتجاج کرنا شروع کر دیا۔ پولیس نے ان لوگوں پر فائر کیا جس سے ایک شخص ہلاک اور ایک درجن سے زیادہ زخمی ہو گئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں