کشمیر میں ایک بار پھر کشیدگی، فوج اور پولیس کی مظاہرین پر فائرنگ میں دو ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع کولگام میں اتوار کو ہوئے تصادم میں دو فوجیوں، چار شدت پسندوں اور دو عام شہریوں کی ہلاکت کے بعد وادی میں حالات ایک بار پھر کشیدہ ہوگئے ہیں۔

اس تصادم کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد نے مظاہرے کیے اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مظاہرین پر فوج اور پولیس نے فائرنگ کی اور چھّروں کا بے دریغ استعمال کیا۔ اس کارروائی میں ایک درجن سے زیادہ شہری شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

جسم میں چھرے، زندگی میں گہری مایوسی

’کشمیر میں تشدد نے نوجوانوں کو نڈر کر دیا ہے‘

کئی ماہ کے تعطل کے بعد وادی میں چھرّوں کا خوف ایک بار پھر طاری ہوگیا ہے۔ زخمیوں میں سے دو شہریوں کی موت کے بعد مظاہروں میں شدت آگئی۔

علیحدگی پسندوں کی کال پر ان ہلاکتوں کے خلاف پیر کے روز ہڑتال کی گئی۔ حکام نے سرینگر، کولگام، اننت ناگ، سوپور اور دوسرے حساس اضلاع میں سخت سکیورٹی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ جنوبی کشمیر میں مبینہ طور پر لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین سے وابستہ چار شدت پسندوں کی ہلاکت کو فوج نے سب سے بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

فوج کی راشٹریہ رائفلز سے وابستہ ایک اعلیٰ افسر نے بتایا 'ابھی بھی جنوبی کشمیر میں 30 مسلح شدت پسند سرگرم ہیں اور انہیں سرینڈر کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔'

واضح رہے گذشتہ برس چھ ماہ کی طویل احتجاجی تحریک کے دوران سرکاری کارروائیوں میں کم از کم 100 افراد مارے گئے اور ہزاروں زخمی ہوگئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پولیس نے سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق کو گھروں میں نظربند کیا گیا ہے جبکہ یاسین ملک کو سینٹرل جیل منتقل کیا گیا ہے۔

کئی حلقوں کو خدشہ تھا کہ انٹرنیٹ پر بھی پابندی ہوگی، تاہم ابھی تک ایسا نہیں کیا گیا۔

بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے پارلیمنٹ میں جاری اعداد و شمار کے مطابق 1990 سے 2001 تک 14356 مقامی اور 2358 'غیرمقامی مسلح شدت پسند' مارے گئے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق فی الوقت کشمیر میں ڈیڑھ سو سے زائد مسلح مزاحمت کار ہیں۔ ان میں سے 79 مقامی ہیں اور مقامی مزاحمت کاروں میں سے 60 صرف جنوبی کشمیر میں سرگرم ہیں۔

جنوبی کشمیر کو حکمران پی ڈی پی کا سٹرانگ ہولڈ کہا جاتا ہے، لیکن جب سے پی ڈی پی ڈی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے ہندوقوم پرست جماعت بی جے پی حمایت سے حکومت سنبھالی ہے، جنوبی کشمیر میدان جنگ بن گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ تو درد سر بن گیا۔ دو مسلح نوجوانوں کی حمایت پر گاؤں کے گاؤں سڑکوں پر نکل آتے ہیں: فوجی افسر

سیاسی خیمے تو موجودہ صورتحال کو ایک دوسرے کے خلاف پوائنٹ سکور کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں، لیکن سکیورٹی اداروں کو خدشہ ہے کہ مسلح مزاحمت کی بڑھتی مقبولیت کاؤنٹر انسرجنسی مہم کے لیے زبردست چیلنج ہے۔

ایک فوجی افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا 'یہ تو درد سر بن گیا۔ دو مسلح نوجوانوں کی حمایت پر گاؤں کے گاؤں سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔'

اکثر ہندنواز اور علیحدگی پسند حلقوں کا کہنا ہے کہ سیاسی خواہشات کے پرامن اظہار پر مسلسل پابندی کی وجہ سے نوجوان مسلح مزاحمت کی طرف مائل ہورہے ہیں اور ان میں بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ہے۔

تجزیہ کار عمران مرتضیٰ کہتے ہیں 'پاکستان کی طرف سے ہتھیار نہیں آرہے ہیں اور سرحدیں بھی سیل ہیں۔ اگر پہلے کی طرح پاکستان ہتھیاروں کی سپلائی بحال کردے تو یہاں ہزاروں نوجوان مسلح گروپوں میں شامل ہوجائیں گے اور خون خرابے کا زیادہ خطرناک مرحلہ شروع ہوجائے گا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں