کشمیر: تشدد میں اضافہ، تازہ جھڑپ میں ہلاکتیں

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں منگل کی صبح شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلعے میں مسلح تصادم کے دوران ایک شدت پسند ہلاک اور نو فوجی زخمی ہوگئے۔

غیرسرکاری اطلاعات میں بتایا گیا کہ زخمیوں میں سے تین فوجیوں کی موت ہوگئی ہے۔ بعض انڈین ٹی وی چینلز نے بھی تین فوجیوں کے ہلاک ہونے کی خبر دی ہے۔ تاہم فوجی ترجمان کرنل این این جوشی نے صرف نو فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

اس سے قبل کشمیر کے جنوبی علاقے کولگام ضلعے میں جھڑپ کے دوران چار شدت پسندوں کے ساتھ دو فوجیوں اور دو شہریوں کی ہلاکت کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں۔

منگل کی صبح ہونے والا تصادم بانڈی پورہ ضلع کے حاجن علاقے میں ہوا۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں کئی روز سے شدت پسندوں کی نقل وحرکت کے بارے میں خفیہ اطلاعات مل رہی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

واضح رہے کہ اسی علاقے میں گذشہ ماہ لشکر طیبہ کے کمانڈر ابو موسی کو ایک جھڑپ کے دوران ہلاک کیا گیا۔

جھڑپ کے بعد علاقے میں ہڑتال کی گئی اور لوگوں کی بڑی تعداد نے فوج کے خلاف مظاہرے کیے۔

اس سے قبل جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں ہوئے تصادم کے دوران بھی لوگوں نے شدید مظاہرے کئے۔ مظاہرین کے خلاف فورسز کی کاروائی میں 20 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ رواں سال روایت کے برعکس فروری کے مہینے میں ہی مسلح تشدد میں اضافہ ہوا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کشمیر میں حالات پھر ایک بار کشیدہ ہوسکتے ہیں۔

تاہم ایک فوجی افسر نے بتایا: 'آپ ان جھڑپوں کو حملہ سمجتھے ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن ہے۔ کولگام اور حاجن میں ہم نے خفیہ اطلاع ملنے پر شدت پسندوں کا محاصرہ کیا۔ جنوبی کشمیر میں اب بھی 30 شدت پسند سرگرم ہیں جن کے خلاف مختلف سطحوں پر آپریشن جاری ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں