’نئی نسل مندر مسجد سے آگے نکل چکی ہے‘

Image caption اتر پردیش کی تاریخ میں بہت کم ایسے انتخابات ہوں گے جو اتنی اہمیت اختیار کر گئے ہیں

’ملک ایمانداری کے راستے پر چل پڑا ہے۔ ہم اتر پردیش کو بھی بدعنوانی سے آزاد کریں گے۔ اسے ایک خوشحال ریاست بنائیں گے ۔‘

وزیر اعظم نریندر مودی اتر پردیش کے ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ریاست کی حکمراں جماعتوں نے اس ریاست کو ملک کی غریب ترین ریاست میں تبدیل کر دیا ہے۔ مودی ریاست میں بی جے پی کی انتخابی مہم کی خود قیادت کر رہے ہیں۔

* اتر پردیش الیکشن: ’مسلمانوں کے ووٹوں کی تقسیم کا خدشہ‘

اتر پردیش کی 403 رکنی اسمبلی کے لیے اتر پردیش میں سات مرحلوں میں انتخاب ہو رہے ہیں۔ ریاستی اسمبلی کے یہ انتخابات آخر مودی کے لیے اتنا اہم کیوں ہیں۔

تجزیہ کار ویریندر ناتھ بھٹ کہتے ہیں ’یہ الیکشن 2019 کے پارلیمانی انتخابات کا سیمی فائنل ہے۔ لوک سبھا کی لڑائی کی بنیادی عبارت اسی انتخاب میں لکھی جائے گی ۔‘

بہت سے لوگ ان انتخابات کو وزیراعظم نرینر مودی کی حکومت کے بارے ریفرینڈم سے تعبیر کر رہے ہیں۔ لیکن ہندوستان ٹائمز کی مدیرہ سنیتا ایرن کہتی ہیں کہ مودی حکومت کے لیے اس الیکشن کا جیتنا صرف 2019 کے پارلیمانی انتخاب کے لیے ہی ضروری نہیں ہے۔ یہ فوری طور پر بھی مودی حکومت پر اثر انداز ہوں گے۔

’اگر یہاں نہیں جیتتے تو ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں بی جے پی کی سیٹوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔ نئے قانون کی منظوری کے لیے بی جے پی کو اکثریت چاہیے جو اس وقت نہیں ہے۔ ملک میں اس برس صدارتی انتخاب ہونے والے ہیں ۔ یو پی میں ہار سے بی جے پی کے امیدوار کے لیے مشکل ہو سکتی ہے۔‘

Image caption مودی اپنے انتخابی جلسوں میں کبھی کبھی پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائیک اور سخت موقف اختیار کرنے کا بھی ذکر کرتے ہیں

مودی اپنی انتخابی مہم میں ترقی اور شفاف حکومت دینے کی باتیں کر رہے ہیں لیکن ان کے کئی ساتھی ریاست کی مسلم آبادی والے علاقوں میں گاؤ کشی، تین طلاق، ہندوؤں کے انخلا اور یوپی میں کشمیر بنانے کی سازش جیسے نزاعی معاملوں کو اٹھا کر ووٹروں کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سنیتا ایرن کہتی ہیں ’آج کے ہندوستان میں خالی ہندوتوا کے نعرے پر الیکشن نہیں جیت سکتے۔ نئی نسل مندر مسجد سے آگے نکل چکی ہے۔ نوجوان ایک بہتر مستقبل دیکھ رہے ہیں۔ ان کو محسوس ہو رہا ہے کہ مندر مسجد کے ٹکراؤ میں ان کا مستقبل نہیں ہے۔‘

مودی اپنے انتخابی جلسوں میں کبھی کبھی پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائیکس اور سخت موقف اختیار کرنے کا بھی ذکر کرتے ہیں۔

معروف تجزیہ کار شرت پردھان کا خیال ہے کہ اس سے انتخابی فائدہ ہوتا ہے ’ایسا نہیں ہے کہ اس سے محض بی جے اور اور آر ایس ایس کے نظریے والے لوگ ہی متاثر ہوتے ہیں۔ جو عام لوگ ہیں ان پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔ ایک بہت ہی چھوٹا طبقہ ہے جو ان باتوں کو نظر انداز کرتا ہے۔‘

Image caption کانگریس کے لیے یہ وجود سے بھی گمبھیر لڑائی ہے

پوری ریاست اس وقت ہر طرف انتخابی جلسے جلوسوں سے گونج رہی ہے۔

ایک طرف بی جے پی ہے تو دوسری جانب کانگریس نے وزیراعلی اکھیلیش یادو کی حکمراں جماعت سماجوادی پارٹی سے اتحاد کر لیا ہے۔ ریاست میں جیت اسے ملک کی سیاست میں واپس لا سکتی ہے لیکن شکست اس کے لیے سیاسی طور پر تباہ کن ثابت ہوگی۔

ویریند ناتھ بھٹ کہتے ہیں ’کانگریس کے لیے یہ وجود سے بھی گمبھیر لڑائی ہے۔ اس کی لڑائی یہاں یہ نہیں ہے کہ وہ کتنی سیٹیں جیتتی ہے۔ اس کے لیے زیادہ بڑی لڑائی یہ ہے کہ وہ بی جے پی کو کس طرح اقتدار میں آنے سے روکتی ہے۔‘

اتر پردیش کے انتخاب میں دلت رہنما مایاوتی کی جماعت بی ایس پی کے ساتھ مقابلہ سہ رخی ہے۔ بی ایس پی نے 403 میں سے تقریبآ سو سیٹیں مسلم امیدواروں کو دی ہیں۔ ابتدا میں ان کی پارٹی کافی پر اعتماد لگ رہی تھی۔ لیکن کانگریس اور سماجوادی پارٹی میں اتحاد ہونے کے بعد بظاہر انتخابی توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ اب یہ انتخاب بنیادی طور پر بی جے پی اور کانگریس سماجوادی اتحاد کے درمیان لگنے لگا ہے۔‘

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بی جے پی اگر اتر پردیش میں جیت گئی تو رام مندر کی تعمیر سے لے کر انڈیا کی پاکستان پالیسی جیسے اہم سوالوں پر مودی حکومت کے موقف میں مزید سختی آئے گی۔

اتر پردیش کی تاریخ میں بہت کم ایسے انتخابات ہوں گے جو اتنی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ یہاں بی جے پی کانگریس، ایس پی، بی ایس پی، صرف ان جماعتون کی سایسی قسمت کا فیصلہ نہیں ہو گا۔ یہ انتخابات ملک کے سیاسی مستقبل کا رخ طے کریں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں