نائن الیون کے بعد افغانستان میں مزاحمتی شاعری

  • 17 فروری 2017
تصویر کے کاپی رائٹ Google

افغانستان میں 1989 کے انقلابِ ثور کے بعد ایسی خانہ جنگی شروع ہوئی جس کے شعلے اب بھی لپک رہے ہیں۔ اس کا اثر افغان شاعری پر بھی ہوا۔ خاص طور پر نائن الیون کے بعد امریکی یلغار اور طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد پشتو میں مزاحمتی شاعری کو بہت زیادہ پذیرائی ملی۔

ابتلا کے اس دور میں شعرا کے ایک بڑے طبقے نے لب و رخسار اور گل و بلبل کے بجائے ملک میں سیاسی اور جنگی دنگل سے براہِ راست متاثر ہونے والے نِہتّے عوام کے مسائل کو اپنا موضوع بنایا۔

اس طرح پشتو ادب میں ایک لمبے عرصے بعد مزاحمتی شاعری کو پھر سے فروغ اور عوامی پذیرائی ملی۔

اس مزاحمتی روایت کے علمبردار اور معروف افغان شاعر مطیع اللہ تراب کا کہنا ہے کہ وہ کسی پر تنقید نہیں کرنا چاہتے۔ مگر ان کے خیال میں جنگ و جدل کے دور میں رومان اور رومانوی شاعری کوئی معنی نہیں رکھتی۔

’رومان تو اس وقت لکھا جاتا ہے جب امن ہو۔ جب روٹی، کپڑا اور مکان کی فکر نہ ہو۔ جنگ و جدل نہ ہو۔ میرے خیال میں شعر وہ ہے جس میں کسی بے کس اور مجبور کے احساسات کو زبان ملے۔‘

افغانستان میں برسرِپیکار قوتوں پر طنز کے تیروں کی بوچھاڑ لیے ان کی ایک نظم کا بند ہے:

’وہ ہماری بقا کے لیے اپنا خون نہیں بہا رہے

ہماری بہبود و فلاح کے لیے خون نہیں بہا رہے

وہ اپنے مقاصد، حکمت عملیاں اور اہداف رکھتے ہیں

ان کی سیاستیں دو رخی اور چار رخی ہیں۔

وہ اپنے تربیت یافتہ ایجنٹ اور ایجنسیاں رکھتے ہیں

وہ تو اپنے اہداف کے حصول کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Google
Image caption مطیع اللہ تراب پیشے کے اعتبار سے کاروں کے باڈی میکر ہیں

افغانستان میں عصری مزاحمتی شاعری کے باب میں عزت اللہ ځواب، سميع اللہ تړون، پرھیز شگیوال، زاہداللہ ظاہر اور تحسین اللہ تحسین کے نام بھی نمایاں ہیں۔ جبکہ نوجوان خواتین شاعرات میں نبیلہ وفا، ہماسہ اور شفیقہ خپلواک شامل ہیں مگر ان کی شاعری مزاحمتی سے زیادہ مِلّی ہے۔

نبیلہ وفا کے کلام کا ایک نمونہ:

’میں ملت کے غم میں سلگ رہی ہوں

میرے ہم وطن غفلت کی نیند سونا سیکھ چکے ہیں

میرے بابا نے کہا تھا کہ وہ قوم مِٹ جاتی ہے

غفلت کی نیند جس کا شعار ہو

میں نہیں چاہتی کہ میری قوم مٹ جائے

اور میرے بابا کی بات سچ ہوجائے‘

شفیقہ خپلواک افغان پرچم کے سیاہ، سرخ اور سبز رنگوں پر تنقید کرنے والوں کے جواب میں کہتی ہیں:

’میرا پرچم تو رنگوں سے سجا ہوا ہے

ارے، تم اس سیاہ رنگ کو وحشت کا رنگ کہتے ہو

مجھے تو یہ سیاہ رات کا سا سکون بخشتا ہے

یہ تو اُن اندھیروں جیسا ہے جن میں

میری چراغ کی سی آنکھیں روشنی لاتی ہیں

جن میں میرا دل دھڑکتا ہے اور میرا انگ انگ پناہ لیتا ہے‘

ان شعرا نے نئی تشبیہوں، استعاروں اور تراکیب کا بھی خوب استعمال کیا ہے۔ مثلاً عزت اللہ ځواب نے اِنھیں یوں برتا ہے۔

’آج پختون ٹررِّسٹ کے طور پر بدنام ہے

وہ بدبخت ہے جو اس قوم کا ہے

آج اس میں شرم محسوس نہیں ہوتی

کہ ہر ادارے میں رشوت عام ہے

اور جو اس نظام کا مخالف ہے

اس کا مقام گوانتانامو یا بگرام ہے‘

مگر کابل میں بی بی سی پشتو کے نامہ نگار، شاعر اور نقاد مصطفٰی سالک کے مطابق پشتو ادب میں موجودہ مزاحمتی شاعری کوئی نئی بات نہیں۔

’تقریباً چار سو سال پہلے خوشحال خٹک نے مغلوں کی مزاحمت کی تو اس کی جھلک ان کی شاعری میں بھی نظر آئی۔ افغانستان میں انقلاب ثور کے بعد سلیمان لائق اور پختونخواہ میں اجمل خٹک نے خان اور جاگیردار کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ آج کی مزاحمتی شاعری کو عوامی قبولیت تو حاصل ہے مگر اس میں فیض اور ساحر لدھیانوی والی بات نہیں۔‘

فیض اور ساحر یا اجمل اور لائق جیسا آہنگ نہ سہی مگر مطیع اللہ تراب کہتے ہیں کہ وہ تو کسی گروہ یا نظام کے حامی نہیں، بلکہ عوامی احساسات کے ترجمان ہیں۔

’میں سرکاری اہلکار ہوں، نہ طالبان کا ترجمان اور نہ ہی غیرملکی افواج کا وظیفہ خوار۔ جو عوام کا مجرم ہوگا، میری انگلی اس کی طرف اٹھے گی۔‘

مصطفٰی سالک عوامی پذیزائی کو شاعری کا معیار نہیں گردانتے۔ ان کے بقول یہ جذبات سیاسی حالات کے تابع ہوتے ہیں جن کی عمر لمبی نہیں ہوتی۔

سالک کی یہ بات دل کو لگتی ہے کہ حال، ماضی کا تابع نہیں ہوتا۔ مگر اکیسویں صدی کی اس افغان مزاحمتی شاعری کی مقبولیت میں انٹرنیٹ کا بھی بڑا ہاتھ رہا ہے۔ اِن افغان شعراء کا کلام سوشل میڈیا بشمول یوٹیوب پر وسیع پیمانے پر دستیاب اور شیئر ہوا۔ ہر کلپ کے سننے اور دیکھنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ ممکن ہے کہ انٹرنیٹ کے فیض اس بار افغان مزاحتمی شاعری اتنی جلد فراموش نہ ہو پائے۔

اسی بارے میں