پاکستان افغان سرحد کے اندر گولہ باری کی وضاحت کرے: افغانستان

طورخم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

افغانستان حکومت نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان سرحد کے اندر گولہ باری کی وضاحت کرے۔

وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں مشرقی افغانستان میں میزائل حملوں کی مذمت کی ہے، جس میں بقول ان کے، درجنوں خاندانوں کو نقلِ مکانی کرنا پڑی ہے۔

بیان میں پاکستان کی جانب سے ایک سو کے قریب افغان شہریوں کی پکڑدھکڑ پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پاک افغان سرحد کھول دی جائے۔

’افغانستان میں چھپے 76 دہشت گرد پاکستان کے حوالے کریں‘

پاکستان اور افغانستان کی سرحد غیرمعینہ مدت کے لیے بند

پاکستان نے دو روز قبل سیہون میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سرحد تاحکمِ ثانی بند کر دی تھی۔

پاکستان کا الزام ہے کہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان سے کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں گذشتہ روز پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں امریکی کمانڈر جنرل جان نکلسن سے رابطہ کر کے پاکستان میں ہونے والی شدت پسندی کی حالیہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق آرمی چیف نے امریکی کمانڈر جنرل نکلسن کو افغان حکام کو فراہم کی گئی شدت پسندوں سے متعلق فہرست سے بھی آگاہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

واضح رہے کہ جمعے کو افغان سفارت خانے کے حکام کو جی ایچ کیو طلب کر کے ان سے وہاں پناہ لینے والے دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

افغان حکام کو ایسے 76 دہشت گردوں کی فہرست دی گئی تھی جنھوں نے افغانستان میں پناہ لے رکھی ہے۔

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق افغان حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں اور انھیں پاکستان کے حوالے کیا جائے۔

لاہور میں جمعے کی شام پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ میاں شہباز شریف نے کہا تھا کہ اب تک ہونے والی تفتیش کے مطابق دہشت گرد گروہ کا مرکز افغانستان میں ہے۔

'دہشت گردوں کا یہ نیٹ ورک افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتا ہے۔ لاہور میں ہونے والی دہشت گردی کا ذمہ دار بھی یہی نیٹ ورک ہے۔'

انھوں نے بتایا کہ لاہور کے چیئرنگ کراس میں 'ہلاک ہونے والے خودکش بمبار کا تعلق افغانستان سے ہے جب کہ دوسرے حملہ آور کا تعلق پاکستان کے علاقے باجوڑ ایجنسی سے تھا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں