انڈیا: مسلمان اب کسی کا ووٹ بینک نہیں

Image caption ریاست کے مسلمان ملک کی سیاست کو اچھی طرح سمجھ رہے ہیں

وزیر اعظم نریندر مودی ریاست اتر پردیش میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ریاست میں ہندوؤں کے ساتھ تفریق برتی جا رہی ہے۔ بی جے پی کے صدر امت شاہ اپنے جلسوں میں ریاست کے تمام مذبح خانوں کو بند کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ ان سبھی بیانات کے نشانے پر سیاسی جماعتیں نہیں ریاست کے مسلمان ہیں۔

اتر پردیش کے چار کروڑ مسلمان ریاست کی 403 میں سے کم از کم سو نشستوں پر فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن سیاسی جماعتوں نے انتخابی سیاست میں ان کا کردار محدود کر دیا ہے۔

تجزیہ کار وریندر ناتھ بھٹ کہتے ہیں: ’سیاسی جماعتوں نے شعوری طور پر مسلمانوں کو مذہبی سوالوں میں الجھائے رکھا ہے۔ کبھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کریکٹر، کبھی شاہ بانو کیس، کبھی تین طلاق تو کبھی اردو کو سیکنڈ زبان کا درجہ دینے کی باتیں۔ چالیس برس سے سیاسی جماعتیں مسلمانوں کو انھیں سوالوں میں الجھائے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کو ایک مذہبی فریم میں قید کرکے رکھ دیا گیا ہے۔'

کانگریس، سماجوادی، بہوجن سماج پارٹی اور دوسری جماعتیں بی جے پی کا خوف دلا کر مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرتی رہی ہیں۔ سینیئر صحافی شرت پردھان کہتے ہیں: بی جے پی کا ایک ہوا کھڑا کر کے کانگریس اقتدار میں آتی رہی۔ یہ دور تب تک خوب چلا جب تک بی جے پی اقتدار میں نہیں آئی تھی۔ سبھی جماعتوں نے اس کا فائدہ اٹھایا۔ لیکن جب بی جے پی اقتدار میں آگئی تو ہر طرف کھلبلی مچ گئی۔ اب ریاست کے مسلمان نئے اعتماد کے ساتھ الیکشن میں حصہ لیتے ہیں اور اب وہ کسی کا ووٹ بینک نہیں ہیں۔'

Image caption انڈیا کی سیات میں یہ تغیر کا دور ہے اور اس تغیر میں اتر پردیش کا مسلمان بھی ایک نئے اعتماد کے ساتھ ملک کی سیاست میں اپنا مقام حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے

بی جے پی دوسری جماعتوں پر الزام لگاتی ہے کہ انھوں نے مسلمانوں کو محض ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا لیکن خود بی جے پی نے مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کوئی اہم کو کوشش نہیں کی۔ روزنامہ 'ہندوستان ٹائمز' کی مدیر سنیتا ایرن کہتی ہیں کہ 'اگر مودی کل مسلمانوں کے لیے پالیسیز لے کر آئیں، مسلم یوتھ کی ایجوکیشن کے لیے، ان کی ملازمت کے لیے انہیں آگے بڑھانے کے لیے اگر پروگرام لائیں تو مسلمانوں کا بہت بڑا طبقہ ان کی حمایت میں آگے آئے گا۔'

برسوں کی پسماندگی اور پیچھے رہنے کے احساس نے مسلمانوں میں اب خاصی بیداری پیدا کی ہے۔ فیض آباد کے سرکردہ صحافی ارشد افضال کہتے ہیں: 'اب مسلمانوں کا جو ووٹنگ پیٹرن ہو گا وہ بالکل سیکولر ہو گا۔ وہ کسی مسلم لیڈر کو ڈھونڈنے نہیں جائے گا۔ وہ سیکولر طریقے سے جس کو پسند کرے گا اسے ووٹ دے گا۔'

ریاست کے مسلمان ملک کی سیاست کو اچھی طرح سمجھ رہے ہیں۔ اعظم گڑھ کے سماجی کارکن ڈاکٹر شاہد بدر کا خیال ہے کہ نئی سیاسی آگہی انھیں دوسرے پسماندہ طبقوں سے قریب لا رہی ہے۔: 'مسلمان اب یہ سمجھ چکا ہے کہ وہ بھی مظلوم ہے اور دلت بھی مظلوم ہیں۔ ایک فطری اتحاد دلتوں اور مسلمانوں کا بہت تیزی کے ساتھ بنتا نظر آرہا ہے۔'

Image caption بی جے پی نے چار کروڑ مسلمانوں میں سے ایک کو بھی اتر پردیش میں اپنا امیدوار نہیں بنایا ہے

لکھنؤ کے دانشور کرنل فسیح الدین کے خیال میں: 'آج کا مسلم ووٹر بالکل خود مختار ہے، وہ اس آسمان کے نیچے اپنا مقام چاہتا ہے اور اس کی ضروریات وہی ہیں جو اس ملک کے دوسرے تمام لوگوں گی ہیں۔'

سنیتا ایرن کہتی ہیں کہ مسلمانوں کی نئی نسل کو مظلومیت کی نفسیات سے نکلنا ہو گا: 'اب مسلم یوتھ کو سوچنا ہے، لڑکیوں کو سوچنا ہوگا۔ برادری کے دانشور آج یہ بات نہ کریں کہ ہمارے ساتھ ماضی میں کیا نا انصافی ہوئی۔ وہ یہ بات کریں کہ ہمیں آگے کیسے بڑھنا ہے۔'

بی جے پی نے چار کروڑ مسلمانوں میں سے ایک کو بھی اتر پردیش میں اپنا امیدوار نہیں بنایا ہے۔ مسلمانوں کے پاس سیاسی متبادل کم ہیں۔ لیکن کیا بی جے پی اتنی بڑی برادری کو سیاسی طور پر نظر انداز کرنے کی متحمل ہو سکتی ہے۔ شاید نہیں۔

انڈیا کی سیات میں یہ تغیر کا دور ہے اور اس تغیر میں اتر پردیش کا مسلمان بھی ایک نئے اعتماد کے ساتھ ملک کی سیاست میں اپنا مقام حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں