انڈیا: فلمی اداکارہ سے ریپ کے شبہے میں تین افراد زیرِ حراست

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ میں پولیس نے معروف فلمی اداکارہ کے اغوا اور ان سے ریپ کے شبہے میں تین افراد کو حراست میں لیا ہے۔

اداکارہ نے الزام عائد کیا ہے کہ جمعے کی رات جب وہ ایک فلم کی ڈبنگ کے لیے جارہیں تھیں راستے میں تین افراد نے ان کی گاڑی روک کر انھیں گاڑی کے اندر ہی دو گھنٹے تک زیادتی کا نشانہ بنایا اور انھیں دھمکی دی گئی کہ ان کے ریپ کی تصویریں سوشل میڈیا پر عام کردی جائیں گی۔

پولیس نے اداکارہ کے ڈرائیور اور مزید دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ تاہم مرکزی ملزم اور اداکارہ کے سابق ڈرائیور سمیت ابھی تین افراد کی تلاش جاری ہے۔

* ’انڈیا میں ریپ کے جھوٹے دعوے ایک مسئلہ‘

* انڈیا: گینگ ریپ کی شکایت پر پولیس کے غیرمہذب سوال

پولیس نے ریپ، اغوا، مجرمانہ سازش کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

اس واقعے پر جنوبی انڈیا کی فلم انڈسٹری نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

فلم ڈائریکٹر لعل کا کہنا تھا کہ ان کے لیے یہ انتہائی چونکا دینے والا واقعہ ہے۔

’مجھے یقین نہیں آرہا کہ یہ واقعہ کوچن میں رونما ہوا ہے جہاں بہت سی خواتین کام کے بعد رات دیر سے گھر پہنچتی ہیں۔‘

جنوبی انڈیا کے معروف اداکار موہن لال نے ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ اب یہ وقت آگیا ہے کہ ہم محض موم بتیاں اٹھانے اور جلانے اور ہمدردی کرنے سے آگے بڑھیں اور یقینی بنائیں کہ ملک کے قانون کو اتنا طاقتور بنایا جائے کہ کوئی اس طرح کی حرکت کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میری خواہش ہے کہ اس معاملے میں بلاتاخیر انصاف ہو۔‘

انڈیا 2012 میں دلی کی ایک بس میں ایک طالبہ سے زیادتی کے بعد سے ریپ اور صنفی جرائم کے حوالے سے توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس واقعے کے بعد ملک میں ریپ کے خلاف سخت قانون بھی متعارف کروایا گیا۔ اس کے باوجود انڈیا سے خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی حملے مسلسل رپورٹ ہورہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں